سانحۂ کاہنہ: مزید 2 بچوں کی نمازِ جنازہ ادا، 14 میں سے 11 سپردِ خاک

سانحۂ کاہنہ: مزید 2 بچوں کی نمازِ جنازہ ادا، 14 میں سے 11 سپردِ خاک

لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید دو بچوں، عبداللہ اور ارحم، کی نمازِ جنازہ مقامی جنازہ گاہ میں ادا کر دی گئی، جس میں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس کے ساتھ ہی سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے 11 کی نمازِ جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔ گزشتہ رات علی، دعا، ارتضیٰ، رمشا، عبداللہ، ایمان فاطمہ اور عروج فاطمہ کو سپردِ خاک کیا گیا تھا، جبکہ آج صبح ماہ نور اور تسبیح شہزاد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔علاقے میں غم کی فضا برقرار ہے، دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ شہری سوگوار خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جنازہ گاہ کا رخ کر رہے ہیں۔نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے روشنی، صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ شہرِ خموشاں کی گاڑیاں لاشوں کی منتقلی کے لیے موجود رہیں اور ستھرا پنجاب کی ٹیمیں صفائی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔

دوسری جانب جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں زخمی خاتون ٹیچر اور بچوں کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ادھر پولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے زخمی مالک مکان، خاتون ٹیچر کے شوہر ریحان، اس کے بھائی فیضان اور چھت پر کام کرنے والے مزدور عمیر کو تحویل میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے سانحے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دیگر نجی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت جاری کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔