پاکستان کیلئے پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں بقا ء کا معاملہ ہے، اپنے حصے کے پانی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘ عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے:عطاء تارڑ
پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا:کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ ‘بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق ہوچکے، اتنے لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے:مصدق ملک
سیاسی مقاصد کیلئے سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا خطرناک اقدام ہوگا:روسی ماہر‘سندھ طاس معاہدے کی معطلی قانونی اعتبار سے بے معنی ہے، بھارت نے عالمی قانون کی توہین کی اور دریائوں کا گلاگھونٹنے کی کوشش کی:خرم دستگیر
دریائے سندھ کا پانی روکنا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملہ ہو گا: عامر ریاض‘دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے:بلاول بھٹو کا سندھ طاس معاہدہ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب
اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے دریائی پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے، پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے۔ وہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کیلئے ہر طریقہ اپنائیں گے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے، ، پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، ۔کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت کر چکی ہے، ثالثی عدالت فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، ثالثی عدالت نے بھارت کو کہا ہے کہ مغربی دریائوں کے بہا ئو میں کوئی خلل نہ ڈالے۔سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے‘وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہاہے کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے، اتنے لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے،سدھ طاس معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا، کسی کو علاقائی امن یاعالمی امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہاہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کیلئے سندھ طاس معاہدے کا برقرار رہنا ناگزیر ہے‘سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے،بھارت کا پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کا بیان عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے‘سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا بھارت نے عالمی قانون کی توہین کرتے ہوئے دریائوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اورپانی کو ایک ہتھیار کے طور پراستعمال کیا،سندھ طاس معاہدے کی معطلی قانونی اعتبارسے بے معنی ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، دنیا کو احساس ہوچکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں ہے، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا، اکیسویں صدی پانی کی بندش،آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانیکے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہا والا ملک بالادست ریاستوں کے دبا کا شکار بن جائے‘سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی روکنا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملہ ہو گا‘سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گائو نے کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہا روکنا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، بھارت دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے مکمل طور پر ناانصافی کر رہا ہے