وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
اوگرا (OGRA) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے 23 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 184 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جب کہ اس سے قبل یہ 169 روپے 20 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہو چکا ہے۔
متوسط اور دیہی طبقے پر شدید اثرات
مٹی کا تیل ملک کے دیہی علاقوں اور غریب گھرانوں میں روایتی چولہوں اور لالٹینوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت میں بڑا اضافہ ہونے سے غربت زدہ طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی بجلی اور گیس کی قلت کے باعث متبادل ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل مہنگائی
چند روز قبل حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا تھا:
پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے اضافہ کر کے نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے کا اضافہ کر کے نئی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔
ماہرین کی رائے: مہنگائی کی نئی لہر
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے:
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا،
اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہوں گی،
اور اس کا اثر روزمرہ کی ضروریات پر پڑے گا، جس سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
حکومت کا مؤقف اور عوامی ردعمل
وفاقی وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم، عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی کم کرنے کے دعوے کر رہی ہے لیکن فیصلے اس کے برعکس ہیں۔