گوجرانوالہ کے علاقے ایمن آباد میں مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے کے افسوسناک واقعے میں دو بہنوں کے بعد 8 سالہ بھائی حیدر بھی جان کی بازی ہار گیا۔
واقعے نے علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق خاندانی تقریب میں کھائے گئے کیک، پیزا اور بریانی کے بعد بچوں کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اب تک تین بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، جب کہ ماں زاہدہ ارم وڑائچ اور دو دیگر بچے تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایمن آباد میں قائم 7 فوڈ پوائنٹس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں کچھ فوڈ پوائنٹس پر صفائی کے ناقص انتظامات اور مشکوک خوراک کی نشاندہی ہوئی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) نے ایمرجنسی اقدامات کرتے ہوئے دو فوڈ پوائنٹس کو سیل کر دیا ہے جبکہ خوراک کے نمونے حاصل کر کے انہیں لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق لیبارٹری رپورٹ ملنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عینی شاہد اور متاثرہ خاندان کا موقف
انٹرنیشنل کبڈی پلیئر نوید پہلوان، جن کی بیٹی بھی متاثرہ بچوں میں شامل ہے، نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تقریب میں مہمانوں کو کیک، پیزا اور بریانی پیش کی گئی تھی، جس کے بعد بچوں نے متلی، بخار، دست اور پیٹ درد کی شکایت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دو بیٹیاں دم توڑ چکی تھیں جبکہ بعد میں بیٹا بھی جاں بحق ہو گیا۔
مزید تحقیقات جاری
پولیس نے فوڈ پوائنٹس کے چھ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کوئی ملزم فرار نہ ہو سکے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی مشتبہ خوراک یا فوڈ پوائنٹ کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ مزید جانوں کو بچایا جا سکے۔
عوامی مطالبہ
عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر صحت، اور پی ایف اے سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے غیر معیاری خوراک فراہم کرنے والے مراکز کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلایا جائے۔