رانا عامر
پنجاب کی زراعت اس وقت کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے مہنگی بجلی ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں لوڈشیڈنگ پانی کی قلت اور کسان کی کمزور معاشی حالت نے زرعی شعبے کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے یہ مسائل نہ صرف کسان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پوری معیشت پر اثر ڈال رہے ہیں ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب سولر ٹیوبیل اسکیم 2026 کا آغاز ایک بروقت جرات مندانہ اور دور اندیش فیصلہ ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صوبائی قیادت عملی حل پر یقین رکھتی ہے اورکسان کے مسائل کو ترجیح دیتی ہے یہ منصوبہ 2026 کے ابتدائی مہینوں سے باضابطہ طور پر شروع ہو رہا ہے جبکہ بعض اضلاع میں ابتدائی درخواستیں وصول کرنا اور فیلڈویریفکیشن کا عمل بھی جاری ہے یہ اسکیم کسانوں کے لیے سادہ اور قابل رسائی ہے کوئی مشکل شرط نہیں کوئی سیاسی سفارش یا اثر و رسوخ ضروری نہیں پنجاب کا کوئی بھی کسان جو پنجاب کا مستقل رہائشی ہو کم از کم ایک ایکڑ زمین کا مالک ہو اور جس کے پاس بجلی یا ڈیزل پر چلنے والا ٹیوبیل موجود ہو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے حکومت پنجاب بھاری سبسڈی فراہم کرے گی جس سے کسان کو صرف محدود رقم ادا کرنی ہوگی اور سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد وہ برسوں تک مفت توانائی سے اپنے ٹیوبیل چلا سکے گا یہ اقدام کسان کے مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرے گا اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنائے گا کل لاگت کا تقریباً 67 سے 80 فیصد حصہ حکومت برداشت کرے گی اور باقی چند فیصد کسان آسان اقساط میں یا براہِ راست ادا کرے گا یہ نظام کسان کے مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرے گا اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنائے گا یہ اقدام خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لییحوصلہ افزا ہے جو پہلے مہنگائی اور توانائی کے بحران کی وجہ سے اپنے ٹیوبیل کو مسلسل چلانے سے قاصر تھے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی ترجیح محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں یہ اسکیم اسی وڑن کا مظہر ہے جو کسان کو خود کفالت کی راہ پر لے جاتا ہے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتا ہے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے عوامی آگاہی بڑھانے اور دیہی علاقوں تک معلومات پہنچانے می بھرپور کوشش کی ہے یہ عمل کسی بھی عوامی منصوبے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے کسانوں کی سہولت یقینی بنتی ہے یہ اسکیم صرف کسان کی مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑیں گے جب زرعی لاگت کم ہوگی تو پیداوار بڑھے گی اجناس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی ممکن ہو سکے گی شمسی توانائی کے فروغ سے ماحول دوست پالیسیوں کو بھی تقویت ملے گی کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور مستقبل کی نسلوں کے لیے صاف ماحول ممکن ہوگا اس کے ساتھ ہی توانائی بحران کے شکار ملک میں زراعت کو سولر پر منتقل کرنا ایک جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ ہے جو مضبوط سیاسی ارادے اور واضح وڑن کی بدولت ممکن ہوا ہے مریم نواز شریف نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل فیصلوں سے گریز نہیں کرتیں بلکہ عوام کی بہتری اور پائیدار حل کے لیے اقدامات کرتی ہیں اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ کسان کو سستی اور مستقل پانی کی فراہمی کا موقع فراہم کرتا ہے اب کسان کو ہر موسم میں اپنے کھیتوں کے لیے پانی کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا یہ اقدام فصلوں کے معیار اور پیداوار میں بہتری کے لیے اہم ہے کیونکہ بروقت آبپاشی سے زمین کی زرخیزی اور فصل کی مضبوطی برقرار رہتی ہے اس سے کسان کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور دیہی معیشت میں بہتری آئے گی اگر پنجاب سولر ٹیوبیل اسکیم 2026 پر اسی جذبے شفافیت اور تسلسل کے ساتھ عمل جاری رہا تو یہ منصوبہ صرف کسان کی تقدیر بدلنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پنجاب کی زرعی تاریخ میں ایک سنگ میل بن جائے گا یہ اسکیم دکھا دے گی کہ جب قیادت وڑن کے ساتھ کام کرتی ہے تو عام کسان بھی جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بن سکتا ہے پیداوار میں اضافہ ہوگا زرعی لاگت کم ہوگی اور معیشت مضبوط ہوگی مریم نواز شریف کا یہ وڑن کسان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ فیصلہ ایک تاریخی اقدام کے طور پر یاد رکھا جائے گا یہ اسکیم نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے لیے ایک عملی ماڈل بن سکتی ہے جس سے دیگر صوبے بھی اپنی زرعی پالیسیوں میں اصلاحات کر سکتے ہیں