مریم نواز پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں

 فرزانہ اقبال 
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک وسیع اور ترقی پسند ٹورسٹ پالیسی اور منصوبہ بندی اپنائی ہے جس کا مقصد پنجاب  کو قومی اور بین الاقوامی سیاحتی حب بنانا ہے۔Magnificent Punjab کے نام سے شروع کئے جانے والے سیاحتی پروگرام کے تحت 170 سیاحتی مقامات اور ٹریل کی شناخت، تعمیر، بحالی اور ترقی کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔ اس پلان میں مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور ایکو ٹورزم کی ترقی شامل ہیجس کا مقصد صوبے کو ایک جامع سیاحتی نقشے پر لانا ہے۔۔اس حوالے سے حکومت پنجاب کا ایک اہم قدم پنجاب ٹورزم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی کا قیام ہیجس کے ذریعے سیاحتی مقامات کی بہتری ممکن ہوگی۔ کالا باغ اور سالٹ رینج کے سیاحتی مقامات بھی اسی پروگرام کا حصہ ہیں جو نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیائی تنوع کی ایسی تصویر بھی پیش کرتے ہیں جو ہر دیکھنے والے کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک طرف کالا باغ کا پہاڑی سلسلہ اور اس کے گردونواح کی خاموشی اور دوسری طرف سالٹ رینج کی صحرائی اور پتھریلی زمین پر کھڑی بلند چوٹیوں کی شان پنجاب  کے سیاحتی خزانے  کا انمول حصہ  ہیں۔۔۔کالا باغ  اپنی قدرتی خوبصورتی اور ٹھنڈی ہوا کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کے درختوں کی چھاؤں، نیلے آسمان کی وسعت اور پہاڑوں کی خاموشی انسان کے اندر ایک سکون پیدا کرتی ہے۔ کالا باغ کا ماحول اس لحاظ سے بھی خاص ہے کہ یہاں کی فضا میں ایک نوعیت کی تازگی اور خوشبو ہوتی ہے، جو شہر کی آلودگی اور شور سے بھاگ کر آنے والے ہر فرد کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ کالا باغ کے قریب بہت سی چھوٹی چھوٹی وادیاں اور ندی نالے بھی ہیں جو اس علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ یہ وادیاں نہ صرف قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہیں بلکہ یہاں کی زندگی، ثقافتی روایات اور رہن سہن کے انداز کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مقامی لوگ اپنی مہمان نوازی اور سادگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔۔کالا باغ کے پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے یا کسی ندی کے کنارے بیٹھ کر وقت گزارنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ یہاں کے مناظر ایسے ہیں کہ آپ کا دل چاہتا ہے کہ وقت رک جائے اور یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے رہ جائے۔ اس علاقے میں گھومنے پھرنے کے لیے بہت سی جگہیں ہیں، جن میں کچھ مقامات ٹریکنگ کے لیے بھی بہترین ہیں۔۔ اس کے علاوہ یہاں کی فطری جھیلیں اور چشمے بھی اپنی جگہ خاص ہیں جن کے پانی کی شفافیت اور قدرتی آوازیں آپ کو شہر کے  شور سے دور لے جاتی ہیں۔۔۔سالٹ رینج کی بات کریں تو یہ پاکستان کی ایک تاریخی اور جغرافیائی شناخت ہے۔ یہ سلسلہ ہمالیہ کے قریب واقع ہے اور اس کی پہاڑیاں سفید پتھروں اور نمکیاتی چٹانوں کے لیے مشہور ہیں۔ سالٹ رینج کا سب سے بڑا حسن اس کی سنگِ مرمر جیسی سفید چٹانیں ہیں جو سورج کی روشنی میں ایک خاص چمک پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں کی شکلیں اور ان کی تشکیل قدرتی عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ سالٹ رینج میں سیاحت کے لیے کئی مشہور مقامات ہیں، جن میں قدیم گرجا گھر، تاریخی آثار اور قدرتی غاریں شامل ہیں۔ یہاں کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کے اندر مختلف ادوار کی تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کے قدرتی مناظر بھی اپنی جگہ بے مثال ہیں۔۔ یہ جگہ اپنے اندر ایک ایسی خاموشی سموئے ہوئے ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔کالا باغ اور سالٹ رینج دونوں ہی سیاحتی مقامات میں فرق یہ  ہے کہ کالا باغ زیادہ تر سبز مناظر، جنگلات اور ندی نالوں کے لیے مشہور ہے جبکہ سالٹ رینج اپنی پتھریلی چٹانوں اور تاریخی پہلوؤں کے لیے جانا جاتا ہے۔ مگر دونوں کی ایک مشترک خوبی یہ ہے کہ یہ دونوں مقامات پاکستان کے اندرونی اور اصلی قدرتی حسن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں انسان کو قدرت کی عظمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے چھوٹے سے وجود کو اس عظمت کے سامنے محسوس کرتا ہے۔یہ دونوں مقامات نہ صرف سیاحت کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی تنوع اور ثقافتی ورثے کی علامت بھی ہیں۔ اگر ہم اپنی سیاحتی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور ان علاقوں میں بنیادی سہولیات، رہائش اور سکیورٹی کے انتظامات کو مضبوط کریں تو یہ علاقے نہ صرف مقامی سیاحوں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے بھی زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کے مقامی لوگوں کو بھی سیاحت کے ذریعے معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔۔ سیاحتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی ضروری ہے کیونکہ اگر ہم ان علاقوں کی فطری خوبصورتی کو خراب کر یں گے  تو ہم اپنے ہی مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان کر رہے ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے سیاحتی مقامات کو صاف ستھرا رکھیں، کچرا نہ پھینکیں، جنگلات کی کٹائی سے بچیں اور مقامی ماحول کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس طرح ہم آنے والی نسلوں کو بھی یہ حسین مناظر دیکھنے کا موقع دے سکیں گے۔کالا باغ اور سالٹ رینج پاکستان کی وہ دو جواہرات ہیں جو ہمیں اپنی زمین کی قدر اور اپنی قدرت کی شان کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ مقامات نہ صرف آنکھوں کو تسکین دیتے ہیں بلکہ دل کو بھی ایک نئی زندگی بخش دیتے ہیں۔