مریم نواز کا وژن اور پنجاب کی ثقافت کا احیاء

عمران امین
اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے  پنجاب کی مٹی ہمیشہ سے علم و ادب،فنونِ لطیفہ اور رنگا رنگ روایات کا گہوارہ رہی ہے اورسونے پر سہاگہ ہے کہ پنجاب کے پانچ دریاؤں کی روانی یہاں کے باسیوں کے لہجوں میں چاشنی اور جذبوں میں تمازت بھی بھرتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل پہچان اس کی تہذیبی جڑوں اور ثقافتی ورثے میں پائی جاتی ہے چنانچہ اسی عظیم ورثے کی حفاظت کے لیے پاکستان کے ہر صوبے میں آرٹس کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا۔پنجاب آرٹس کونسل کا بنیادی مقصد صوبے کی قدیم و جدید ثقافتی وراثت کی ترویج،فنکاروں کی سرپرستی اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں بشمول مصوری،خطاطی،موسیقی اور تھیٹر کو جلا بخشنا ہے۔یہ ادارہ محض ایک سرکاری دفتر نہیں ہونا چاہیے بلکہ پنجاب کی روح کو تحفظ دینے والا وہ سائبان ہونا چاہیے جہاں گمنام فنکاروں کی نہ صرف مالی و اخلاقی معاونت کی جائے اور لوک میلوں کے ذریعے عوامی سطح پر ثقافت کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن نے اس ادارے کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔مریم نواز کا مشن صرف سڑکیں اور پل بنانا نہیں ہے یا شہروں کو خوبصورت بنانے تک محدود نہیں ہے اور نہ ضرورت مند اور بے سہارا خاندانوں کی کفالت پر ختم ہو جاتا ہے بلکہ وہ معذوروں،بیواؤں اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے خوابوں کی تعبیر میں معاونت بھی کر رہی ہیں جبکہ پنجاب کے "سافٹ امیج" کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کی سعی بھی ہو رہی ہے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ایک خوشحال اور روشن پنجاب وہی ہو سکتا  ہے جو اپنے افراد اور ورثے پر فخر کرنا جانتا ہو۔ان کے بیشتر اقدامات میں ایک خاص قسم کی ثقافتی حساسیت نظر آتی ہے جو پنجاب آرٹس کونسل کے مقاصد سے مکمل ہم آہنگ ہے۔مریم نواز کے اس ثقافتی احیا کے سفر میں ان کی اہم رفیقہ کار اور صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کا کردار نہایت کلیدی اور نمایاں ہے۔عظمیٰ بخاری نے اپنی سیاسی بصیرت اور انتظامی مہارت سے ثقافت کے شعبے میں نئی روح پھونک دی ہے اور وہ مریم نواز کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔انہوں نے فنکاروں اور حکومت کے درمیان حائل خلیج کو نہ صرف کم کیا ہے بلکہ پنجاب کے لوک ورثے کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق محفوظ کرنے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کروا دیا ہے۔
تاہم جہاں صوبائی سطح پر ثقافت کی بحالی کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہاں فیصل آباد آرٹس کونسل جیسے اہم مراکز اخلاقی زوال اور  مبینہ طور پرمالی بدعنوانی کے گہرے بحران سے دوچار ہیں۔مقامی شعراء￿  اور ادیب ابھی تک اپنے جائز معاوضے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور احتجاجاً ہڑتال کا راستہ اختیار کر چکے ہیں۔
یہاں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جب پنجاب آرٹس کونسل جیسی ثقافتی و علمی اکائی اپنی اصل بنیاد اور اعلیٰ مقاصد سے انحراف کر کے بدعنوانی،اخلاقی پستی اور پسند و ناپسند کا گڑھ بن جاتی ہے تو یہ محض ایک ادارے کا زوال نہیں بلکہ حکومت کے مجموعی تشخص پر ایک کاری 
ضرب ہوتی ہے۔جب فنکار،ادیب اور دانشورجو معاشرے کا حساس ترین طبقہ اور عوامی رائے عامہ کے تشکیل کار ہوتے ہیں ایسے لوگ جب سرکاری دفاتر میں تذلیل کا نشانہ بنتے ہیں یا اپنے جائز حقوق سے محروم کر دیے جاتے ہیں تو ان کی بے چینی قلم اور زبان کے ذریعے عوامی سطح پر حکومت کے خلاف ایک منفی بیانیے کو جنم دیتی ہے۔نچلی سطح پر تعینات چند  افراد کی وجہ سے  وزیرِ اعلیٰ کا روشن وژن  دھندلاجاتا ہے  بلکہ عام آدمی کے دل میں یہ تاثر پختہ ہوجاتا ہے ہے  تبدیلی اور اصلاح کے دعوے صرف اوپر کی سطح تک ہی محدود ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ثقافت صرف نمائش کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تقدس اور شفافیت کی امین ہوتی ہے۔۔جب تک اعلیٰ حکام ان افسران کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کرتے تب تک مریم نواز کا ثقافتی وںن اور عظمیٰ بخاری کی کاوشیں نچلی سطح پر ثمر آور نہیں ہو سکتیں

۔..اگر ان کالی بھیڑوں کا فوری محاسبہ نہ کیا گیا تو یہ عالیشان عمارتیں تو باقی رہیں گی مگر ان کے اندر سے وہ قومی روح کوچ کر جائے گی جو کسی بھی زندہ قوم کی بقا کی ضامن ہوتی ہے۔