2026 کے رنگ ! لاہور کے سنگ!

یاور مہدی 
’’آنکھوں آنکھوں سے الجھی ڈور، کہ دل ہو بو کاٹا‘‘
دو دہائیوں بعد لاہور کے آسمان پر بسنت کی واپسی‘پنجاب محفوظ اور عالمی معیار کے ساتھ دنیا بھر کے ’پتنگ باز سجناں‘ کی میزبانی کو تیار
 30 دسمبر 2025 نئے سال 2026 کا آغاز لاہور کے لیے ایک تاریخی خوشخبری لے کر آیا ہے۔ "پتنگ باز سجناں سے، پتنگ باز بلماں سے، آنکھوں آنکھوں سے الجھی ڈور کہ دل ہو بو کاٹا..." لاہور کی گلیوں اور چھتوں پر گونجنے والے یہ گیت ایک بار پھر حقیقت بننے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وڑن کے تحت، تقریباً 20 سال بعد لاہور کا آسمان ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں سے سجنے والا ہے، جو پاکستان کے امن اور خوشحالی کا پیغام پوری دنیا کو دے گا۔وزیر اعلی پنجاب کی ھدایت پر مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ اس عظیم الشان میلے کی بحالی میں پنجاب حکومت کی سینئر منسٹر مریم اورنگزیب کا کلیدی کردار رہا ہے۔ مریم اورنگزیب کے ماحولیاتی اور سیاحتی وڑن اور عظمیٰ بخاری کی جانب سے پاکستان کے مثبت عالمی تشخص (Soft Image) کو اجاگر کرنے کی حکمت عملی نے اس خواب کو حقیقت بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی معیشت اور ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
انتظامیہ اور سٹیک ہولڈرز کا اشتراک
ڈپٹی کمشنر لاہور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 6 سے 8 فروری 2026 کو میلے کی تاریخیں مقرر کر دی ہیں۔ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس: سیفٹی وائرز اور قانونی ضوابط کے نفاذ کے لیے متحرک ہیں۔پتنگ باز ایسوسی ایشنز: حکومت کے ساتھ مل کر محفوظ پتنگ بازی کی مہم چلا رہی ہیں۔کاروباری طبقہ: پتنگ سازی کی صنعت سے وابستہ لاکھوں ہنرمندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جن کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔
عالمی سیاحوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے دعوتِ عام
دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ لاہور کی روایتی مہمان نوازی، لذیذ پکوانوں اور چھتوں پر ہونے والے موسیقی کے پروگراموں کا تجربہ کریں۔ یہ میلہ پنجاب کی قدیم ثقافت، رنگین ملبوسات اور خوشیوں کا ایک ایسا امتزاج ہے جو پوری دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔
محفوظ بسنت: "پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025"

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی سے بسنت کو جدید ٹیکنالوجی اور سخت حفاظتی ضوابط کے ساتھ جوڑا گیا ہے:ڈیجیٹل رجسٹریشن: مینوفیکچررز کے لیے e-biz ایپ کے ذریعے رجسٹریشن لازمی ہے۔سخت پابندی: خونی ڈور، دھاتی تار اور نائلون کی ڈور پر مکمل پابندی ہوگی۔ صرف منظور شدہ نو تاری سوتی ڈور کی اجازت ہوگی۔سیفٹی فرسٹ: موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی وائر (Safety Wire) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کا روشن چہرہ
بسنت کی بحالی سے لاہور کے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور  ھینڈی کرافٹس و گھریلوں دستکاریوں کی صنعتوں میں نئی روح پھونک دی گئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی روایات کو جدید خطوط پر استوار کر کے دنیا کے سامنے ایک ذمہ دار اور پرکشش سیاحتی ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔نئے سال کے اس موقع پر، ہم پوری دنیا سے آنے والے مہمانوں اور خاص طور پر اپنے سمندر پار بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور لاہور کے آسمان کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجتا ہوا دیکھیں اور 'بو کاٹا' کی گونج میں پنجاب کی خوشیوں کا حصہ بنیں۔"
تاریخ کے جھروکوں سے
پتنگ کی داستان: جنگی ہتھیار سے عالمی تہوار تک کا سفر
لاہور کی بسنت جہاں آج خوشیوں اور امن کا پیغام ہے، وہیں پتنگ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کی ابتدا انسانی ذہانت اور ضرورت کے ایک شاہکار کے طور پر ہوئی تھی۔

پہلی پتنگ اور جنگی حکمتِ عملی (200 قبل مسیح)

تاریخ دانوں کے مطابق پتنگ کی جائے پیدائش چین ہے۔ 200 قبل مسیح میں چینی سپہ سالار ہان سینگ نے ایک قلعہ فتح کرنے کے لیے دنیا کی پہلی پتنگ کا تصور پیش کیا۔ اسے قلعے کے اندر داخل ہونے کے لیے سرنگ کی لمبائی کا درست اندازہ لگانا تھا۔ اس نے ہوا کے رخ کو سمجھتے ہوئے کاغذ اور تنکوں سے ایک ساخت تیار کی اور اسے ایک لمبی ڈور سے اڑا کر قلعے کی فصیل تک پہنچایا۔ اس ڈور کی پیمائش سے اسے دشمن کے فاصلے کا درست علم ہوا، اور یوں ایک "پتنگ" نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔

فوجی جاسوسی اور پیغام رسانی کا آلہ

قدیم چین میں پتنگیں صرف تفریح نہیں تھیں بلکہ یہ جاسوسی، پیغام رسانی اور یہاں تک کہ ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ تک چھوٹے ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ یہ ایک طرح کا قدیم "ڈرون" تھا جس نے اس زمانے کی جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔

شاہی خاندانوں کی تفریح سے عوامی مقبولیت تک

چین سے یہ فن کوریا اور پھر جاپان پہنچا، جہاں یہ اتنا مقبول ہوا کہ جاپان میں اسے باقاعدہ قانون کے تحت صرف شاہی خاندان اور اعلیٰ فوجی افسران تک محدود کر دیا گیا تاکہ عوام اپنی کام کاج سے غافل نہ ہوں۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرحدیں پار کرتا ہوا برصغیر پاک و ہند پہنچا، جہاں لاہور اس کا عالمی دارالحکومت بن کر ابھرا۔

پاکستان: فن سے صنعت تک کا سفر

آج پاکستان میں پتنگ بازی محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک عظیم الشان صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ گڈی کاغذ، بانس، دھاگے اور مانجھے کی تیاری سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں غیر قانونی ڈور اور خطرناک طریقوں نے اس رونق کو گہنا دیا تھا، لیکن حکومتِ پنجاب اور محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں اب اسے دوبارہ ایک "محفوظ اور منظم" شکل دی جا رہی ہے۔

تاریخی سبق: پتنگ کی ڈور ہمیشہ انسانی ترقی اور رابطے کا ذریعہ رہی ہے۔ آج لاہور کی بسنت اسی قدیم روایت کو جدید حفاظتی قوانین کے ساتھ زندہ کر رہی ہے تاکہ فن بھی باقی رہے اور انسانی جانیں بھی محفوظ رہیں۔