شیخ محمد انور
پاکستان ریلوے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ یہ اس ملک کی معاشی شہ رگ، دفاعی قوت اور کروڑوں عوام کی اْمیدوں کا سفر ہے۔ اس ادارے کے ساتھ لاکھوں خاندانوں کی خوشیاں، خواب اور زندگیاں وابستہ ہیں۔ جب کبھی اس ادارے پر زوال ا?یا تو صرف ٹرینیں ہی متاثر نہیں ہوئیں بلکہ اْن غریب مزدوروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہوئے جو اپنی جوانیاں پٹڑیوں، ورکشاپوں، شیڈوں، اسٹیشنوں اور انجنوں کے درمیان گزار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ریلوے سے محبت کرنے والا ہر شخص اْس وقت دکھی ہوجاتا ہے جب اس قومی ادارے کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اْسی وقت دل میں اْمید کی نئی کرن بھی جنم لیتی ہے جب کوئی مخلص قیادت اس ادارے کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرتی دکھائی دیتی ہے۔گزشتہ دنوں وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب سے ریلوے ہیڈکوارٹر میں میری ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ریلوے کے چیف ایگزیکٹیو ا?فیسر حفیظ اللہ خان بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی نشست نہیں تھی بلکہ ریلوے مزدوروں کے دکھوں، امیدوں، مسائل اور مستقبل سے جڑی ایک اہم گفتگو تھی۔ میں نے اْن کی ا?نکھوں میں ریلوے کی بحالی کا خواب بھی دیکھا اور اْن کے لہجے میں اس ادارے کو دوبارہ اپنے پاو?ں پر کھڑا کرنے کا عزم بھی محسوس کیا۔ جب تقریباً اٹھارہ ماہ قبل اْنہوں نے وزارتِ ریلوے کا چارج سنبھالا تو اْس وقت ریلوے شدید مالی مشکلات، انتظامی کمزوریوں اور وسائل کی کمی کا شکار تھی۔ ٹرینوں کی حالت ابتر، اسٹیشن ویران، ملازمین پریشان اور عوام مایوسی کا شکار تھے۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اْنہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ دن رات محنت کرکے اس ڈوبتے ہوئے ادارے کو سہارا دینے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے ہمیشہ ریلوے جیسے عظیم قومی ادارے کو نظر انداز کیا۔ اگر ریلوے کو بھی اْن وسائل، سہولتوں اور ترجیحات کے ساتھ دیکھا جاتا جس طرح دیگر قومی منصوبوں کو دیکھا گیا، تو شاید ا?ج پاکستان ریلوے ایشیا کی صفِ اول کی ریلوے میں شمار ہورہی ہوتی۔ افسوس کہ سڑکوں کے جال بچھانے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر پٹڑیوں پر دوڑتی اْس ریلوے کو فراموش کردیا گیا جو غریب ا?دمی کی سب سے بڑی اور سستی سواری تھی۔ ریلوے نہ صرف ایک سفری ذریعہ ہے بلکہ دفاعی لحاظ سے بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنگ ہو، سیلاب ہو، زلزلہ ہو یا کوئی قومی ایمرجنسی، ریلوے ہمیشہ قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ان تمام مشکلات کے باوجود موجودہ دور میں ریلوے کی ا?مدنی میں اضافہ ایک خوش ا?ئند اشارہ ہے۔ اس سال ریلوے کو تقریباً 92 ارب روپے کے ہدف سے بڑھ کر 94ارب روپے کی ا?مدن حاصل ہوئی اور تقریباً 2 ارب روپے کا منافع سامنے ا?یا۔ بظاہر یہ رقم شاید کچھ لوگوں کو معمولی محسوس ہو، مگر جو لوگ ریلوے کے زخموں کو جانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافع دراصل اندھیروں میں اْمید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ اْس مزدور کی محنت کا صلہ ہے جو دھوپ، بارش، سردی اور طوفان میں بھی پٹڑیوں پر ڈٹا رہتا ہے۔ یہ اْس ڈرائیور کی قربانی ہے جو سینکڑوں میل سفر کرکے ہزاروں مسافروں کو اْن کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ اْس گینگ مین کی جدوجہد ہے جودہشتگردی کے خطرے کے باوجود جنگلوں، سنگلاخ پہاڑوں، صحراو?ں اور دریاو?ں کے پلوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتا ہے تاکہ ریل کا پہیہ رواں دواں رہے۔میں بطور صدر پریم یونین اس موقع پر تمام ریلوے ملازمین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خصوصاً اْن ملازمین کو جنہوں نے 2019ء سے ٹی اے کی عدم ادائیگی کے باوجود اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں کی۔ یہ وہ ملازمین ہیں جنہوں نے معاشی تنگی، گھریلو مسائل اور شدید مشکلات کے باوجود ریلوے کا نظام بند نہیں ہونے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریلوے ا?ج بھی اگر چل رہی ہے تو اس کے پیچھے انہی مزدوروں کی خاموش قربانیاں ہیں۔ اْن کے ہاتھ زخمی ہیں مگر حوصلے بلند ہیں۔ اْن کی جیبیں خالی ہیں مگر دل ادارے کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ملاقات کے دوران میں نے وفاقی وزیرِ ریلوے سے شہید ریلوے ملازم لیاقت علی کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ میں نے اْن کا شکریہ ادا کیا کہ اْنہوں نے لیاقت علی شہید کے لیے تمغہ? شجاعت کی سفارش کی اور اگلے ہی روز ایوانِ صدر میں لیاقت علی شہید کی والدہ کو دلوایا کیونکہ اْن کی اہلیہ عدت میں ہیں۔ اہلِ خانہ کے لیے نقد امداد کا اعلان کیا اور جنازے میں شرکت کرکے ایک مزدور خاندان کے غم کو اپنا غم سمجھا۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکمران چاہیں تو وہ مزدور کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ایک غریب ملازم کے جنازے میں شرکت کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت، محبت اور ادارے سے وابستگی کی علامت ہوتی ہے۔اسی ملاقات میں ایک نہایت اہم پیش رفت اْس وقت سامنے ا?ئی جب وزیرِ ریلوے نے میرے مطالبے پر چیف ایگزیکٹو ا?فیسر حفیظ اللہ کو ہدایات جاری کیں کہ ریلوے ملازمین کو دی جانے والی ’’ڈبلیو ا?ئی ٹی‘‘ کی سزائیں ختم کی جائیں، سوائے ایکسیڈنٹ اور فراڈ کے معاملات کے۔ یہ فیصلہ ہزاروں ملازمین کے لیے امید کی نئی صبح ثابت ہوگا کیونکہ اس سے اْن کی ترقیوں کی راہ ہموار ہوگی۔ کئی ایسے ملازمین ہیں جو برسوں سے معمولی سزاو?ں کی وجہ سے ترقی سے محروم تھے۔ اْن کے بچے جوان ہوگئے، اْن کے بال سفید ہوگئے مگر اْن کی فائلیں دفتروں میں دبی رہیں۔ اگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یقیناً ہزاروں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔میں نے اس موقع پر ٹیکنیکل ملازمین خصوصاً گینگ مینوں کے مسائل بھی بھرپور انداز میں اْٹھائے۔ میں نے وزیرِ ریلوے سے کہا کہ گینگ مین اور دیگر ٹیکنیکل کیٹگریز اس ادارے کی اصل طاقت ہیں۔ یہی لوگ پٹڑیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، یہی لوگ حادثات کو روکتے ہیں، یہی لوگ ریلوے کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کچھ ٹیکنیکل کیٹگریز کو ٹیکنیکل الاو?نس دیا جائے اور وہ مزدور جو پہاڑوں، جنگلوں، صحراو?ں اور دریائی پلوں پر جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے ہیں اْنہیں نظر انداز کردیا جائے؟ میں نے واضح کیا کہ اگر ادارے کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے اْس مزدور کو عزت، سہولت اور حق دینا ہوگا جو اس ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ وفاقی وزیرِ ریلوے نے ملاقات کے دوران ریلوے اسٹیشنوں کی تزئین و ا?رائش، رننگ رومز کی بہتری اور جدید سہولتوں کے منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیل سے ا?گاہ کیا۔ اْنہوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں میں ریلوے کے گارڈز، ایس ٹی ای صاحبان، ڈرائیورز اور رننگ اسٹاف کے لیے ایسے رننگ رومز تیار کیے جارہے ہیں جو بڑے ہوٹلوں کا منظر پیش کریں گے۔ وہاں وائی فائی، ایل سی ڈی، ا?رام دہ بستر اور جدید سہولتیں موجود ہوں گی۔ جب اْنہوں نے یہ بات کی تو میرے دل میں فوراً ایک خیال ا?یا کہ واقعی اگر ایک ہوائی جہاز کا پائلٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرسکتا ہے تو وہ ریلوے ملازم کیوں نہیں جو ایک وقت میں ہزاروں مسافروں کی جانوں کا محافظ ہوتا ہے؟ یہ ریلوے کارکن بھی عزت، ا?رام اور بہترین ماحول کا حق رکھتا ہے۔ راقم الحروف نے خود راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر جاری تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ وہاں کام کی رفتار، صفائی، تزئین و ا?رائش اور جدید انداز دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ اگر نیت صاف ہو تو ادارے بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ وزیرِ ریلوے نے گفتگو کے دوران ایک جملہ کہا جو میرے دل میں نقش ہوگیا۔ اْنہوں نے کہا’’میں کھوکھلے نعروں پر یقین نہیں رکھتا، میں کام پر یقین رکھتا ہوں۔ ریلوے ا?پ کی ہے، میں اسے ایک شاندار ادارہ بنانا چاہتا ہوں۔ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔‘‘ یہ الفاظ سن کر محسوس ہوا کہ شاید پہلی بار کوئی شخص ریلوے کو صرف وزارت نہیں بلکہ ایک قومی امانت سمجھ کر دیکھ رہا ہے۔ اْنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ تمام یونینز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور جو افسر یونینز یا ملازمین کو بلاوجہ پریشان کرے گا اْس کے لیے ادارے میں جگہ نہیں ہوگی۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے کیونکہ ادارے اْس وقت ترقی کرتے ہیں جب انتظامیہ اور مزدور ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ساتھی بن جائیں۔ ملاقات کے دوران اْنہوں نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ ریلوے کے پاس محدود وسائل ہیں اور اب تک کئی منصوبے NLC، FWO اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے گئے ہیں۔ یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ریلوے کی برانچ لائنوں کی بحالی پر کام ہورہا ہے، ’’اَن مین پھاٹک‘‘ ختم کیے جارہے ہیں اور ’’مین پھاٹکوں‘‘ کی بہتری پر توجہ دی جارہی ہے۔ پاکستان میں ریلوے حادثات کی ایک بڑی وجہ یہی غیر محفوظ پھاٹک رہے ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر سنجیدگی سے عمل جاری رہا تو یقیناً حادثات میں نمایاں کمی ا?ئے گی اور قیمتی انسانی جانیں محفوظ ہوسکیں گی۔ مجھے خاص طور پر اْس وقت خوشی ہوئی جب وزیرِ ریلوے نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے تعاون سے لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کے خواب کا ذکر کیا۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن گیا تو نہ صرف عوام کو تیز رفتار سفری سہولت میسر ا?ئے گی بلکہ پاکستان ریلوے کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ اسی طرح عوام ایکسپریس اور بہاو?الدین زکریا ایکسپریس کے نئے ریک اور بہتر کوچز بھی عوام کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عوام جب صاف ستھری، ا?رام دہ اور وقت کی پابند ٹرینیں دیکھیں گے تو یقیناً دوبارہ ریلوے کی طرف لوٹیں گے۔میں نے اس موقع پر وفاقی وزیرِ ریلوے سے بھرپور انداز میں مطالبہ کیا کہ ٹی ایل اے ملازمین، انویلڈ ملازمین کے بچوں اور کنٹریکٹ ملازمین کو جلد از جلد مستقل کیا جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں ریلوے کے نام کردی ہیں۔ اْن کی جوانیاں اس ادارے کی نذر ہوگئیں مگر ا?ج بھی وہ مستقل روزگار کے انتظار میں ہیں۔ اْن کے گھروں میں پریشانیاں ہیں، بچوں کی فیسیں ادا نہیں ہوتیں، بیمار والدین دوائیوں کے منتظر رہتے ہیں۔ اگر حکومت اْنہیں مستقل کردے تو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں اس ادارے اور اس کی قیادت کے ساتھ ہوں گی۔ میں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 2019ء سے رکے ہوئے ٹی اے فوری ادا کیے جائیں کیونکہ یہ ریلوے مزدوروں کا حق ہے، کوئی احسان نہیں۔ وزیرِ ریلوے نے ان مطالبات پر مثبت جواب دیا اور یقین دلایا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے۔ یہ جواب یقیناً حوصلہ افزا تھا مگر اب مزدوروں کی نظریں عملی اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ ریلوے ملازمین اب صرف وعدے نہیں بلکہ فیصلے چاہتے ہیں۔ میں نے ا?خر میں وزیرِ ریلوے سے کہا کہ اگر حکومت پاکستان ریلوے کو بھی NHA اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح مستقل اور مضبوط بجٹ فراہم کرے تو یہ ادارہ دوبارہ اپنے پاو?ں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ پاکستان ریلوے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف مخلص قیادت، جدید منصوبہ بندی اور مزدور دوست پالیسیوں کی ہے۔ اگر حکومت، انتظامیہ اور مزدور ایک صفحے پر ا?گئے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ریلوے ایشیا کی بہترین ریلوے بن کر اْبھرے گی۔ا?ج بھی جب میں ریلوے کی پٹڑیوں پر چلتے مزدوروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اْن کے چہروں پر تھکن کے باوجود امید دکھائی دیتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ادارہ صرف نوکری نہیں بلکہ اْن کی پہچان ہے۔ اْن کے خواب انہی پٹڑیوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ کوئی اپنے بچوں کی تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، کوئی اپنی بیٹی کی شادی کے، کوئی ماں کی دوائیوں کے لیے پریشان ہے اور کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی زندگی چاہتا ہے۔ یہی خواب دراصل پاکستان ریلوے کی اصل طاقت ہیں۔میں دعاگو ہوں کہ وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی اپنی موجودہ کوششوں کو مزید تیزی کے ساتھ جاری رکھیں، ریلوے ملازمین کے دیرینہ مسائل حل کریں، مزدوروں کو اْن کا حق دیں اور پاکستان ریلوے کو واقعی ایک جدید، مضبوط اور عوام دوست ادارہ بنائیں۔ ہم بطور مزدور نمائندے ریلوے کی بحالی کے ہر مثبت اقدام میں اْن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کیونکہ ہماری سیاست صرف نعروں کی سیاست نہیں بلکہ اْن غریب مزدوروں کی خدمت ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس ادارے کے نام کردی۔