وفاقی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے معاملات سیاسی انداز میں حل ہوں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا‘ غفلت بھی قابل قبول نہیں :وزیراعظم

وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمن کو فون اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں حوثی حملے بند کریں‘سعودی عرب کیساتھ ہیں:شہبازشریف
 سعودی ائیرپورٹس پر حملوں  کی  مذمت کرتے ہیں‘سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے،  سعودیہ کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ  کا اعادہ  کرتے ہیں
اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہوگا،  ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سر توڑ محنت کی، سیاسی استحکام چاہتے ہیں:وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفون پر گفتگو‘ پی ٹی آئی لانگ مارچ پر تبادلہ خیال
 صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا‘ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں:وفد سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔جاری بیان میں وزیراعظم نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ریاض اور ابہا کے ائیر پورٹس کو نشانہ بنانے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حملوں میں شہریوں کی اموات اور زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے سعودی افواج اور اتحادی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مستعدی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی افواج اور اتحادی فورسز نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے، حوثی ملیشیا فوری طور پر سعودی عرب پر حملے بند کرے، پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ دریں اثناء شہباز شریف اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں  ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے بعد رات گئے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا گیا، خیبرپختونخوا کی صورتحال خصوصا پی ٹی آئی لانگ مارچ  اور مذاکراتی ڈیڈلاک بارے گفتگو  ہوئی ۔ذرائع کے مطابق  مولانا  فضل الرحمان نے ایک بار پھر موقف دہرایا کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور وہ  اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ دیا اور  کہا ایمرجنسی یا گورنر راج سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کیلئے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے   مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دورر ہنے کے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ   مولانا فضل الرحمان کی سیاسی خدمات اور مفاہمانہ انداز ہمیشہ قابل ستائش رہا، وفاقی حکومت نے ہر ممکن کوشش ہے کہ معاملات سیاسی انداز میں حل ہوں۔پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ضد اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے دوری سے مسائل پیدا ہوئے، اب بھی وقت ہے کہ معاملات کے سلجھا کیلئے کے پی حکومت اور اپوزیشن معاملے کو سنجیدہ لے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا غفلت بھی قابل قبول نہیں۔ذرائع کے مطابق کہا گیا کہ حکومت اب بھی مذاکرات، سیاسی حل کیلئے تیار ہے مگر اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہوگا، وفاق پر دھاوا بولنے سے مسائل حل نہیں بلکہ مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔وزیر اعظم نے کہا  پی ٹی آئی کو سمجھنا ہوگا کہ لانگ مارچ اور مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے، ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سر توڑ محنت کی اور  ملکی معیشت کو مشکل حالات سے نکالا ہے معاشی، سیاسی اور داخلی استحکام چاہتے ہیں‘علاوہ ازیں  شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ اور پاکستان و بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن کے قیام اور تنازعات کی روک تھام کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو مناسب عالمی پذیرائی ملے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی بروقت مداخلت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل تک آسان رسائی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک کو قرضوں کی منظوری اور رقوم کی ادائیگی کا عمل مزید آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منظور شدہ قرضوں کی رقم شہریوں تک بروقت پہنچانا یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملک کے بڑے کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران کے وفد سے ملاقات کی اور وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکاری شعبے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے عوام کو اپنے گھر کا مالک بنانے، چھوٹے کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بینکوں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔