سویڈن کے پراسیکیوٹر نے قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملعون الوان مومیکا کے قتل کی تحقیقات میں گرفتار کیے گئے 5 افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ پانچوں افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، اس لیے انہیں زیر حراست رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم، ان افراد کو مکمل طور پر شک سے بری نہیں کیا گیا ہے، اور تحقیقات جاری رہیں گی۔لوان مومیکا، 38 سالہ عراقی پناہ گزین، کو دو روز قبل اپنے گھر میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ وہ عوامی مقامات پر قرآن پاک کی بے حرمتی میں ملوث رہا تھا، جس کے خلاف پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ سویڈن کے وزیراعظم نے اس کی ہلاکت کو کسی غیرملکی طاقت سے جوڑنے کے امکانات پر بات کی۔مومیکا کے قتل کے بعد، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ان لوگوں کو خبردار کیا تھا جو قرآن پاک کو جلانے کے اشتعال انگیز عمل میں ملوث ہیں، کہ انہیں اس کے بدلے سزا بھگتنا ہوگی۔