سربیا میں 11 افراد گرفتار، فرانس و جرمنی میں مساجد اور یہودی مقامات کی بے حرمتی کا الزام

سربیا میں 11 افراد گرفتار، فرانس و جرمنی میں مساجد اور یہودی مقامات کی بے حرمتی کا الزام

سرب پولیس نے فرانس اور جرمنی میں مساجد اور یہودی مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے الزام میں 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ گروہ ایک ایسے مشتبہ شخص کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا جو اس وقت مفرور ہے اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے سرگرم بتایا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا مقصد نفرت، امتیاز اور تشدد پر مبنی خیالات کو فروغ دینا تھا۔رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں پیرس اور نواحی علاقوں کی مساجد کے باہر 9 سور کے سر رکھے گئے، جس پر مسلم کمیونٹی میں سخت غم و غصہ پھیل گیا۔ اسلام میں سور کو ناپاک جانور سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ واقعہ مذہبی طور پر شدید اشتعال انگیز اقدام قرار دیا گیا۔

اس سے قبل اپریل میں بھی پیرس میں ہولوکاسٹ میموریل، تین یہودی عبادت گاہوں اور ایک ریسٹورنٹ کو سبز رنگ سے خراب کیا گیا تھا، جس پر فرانس میں تین سرب شہریوں کو جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔سرب پولیس نے بتایا کہ حالیہ گرفتاریاں دارالحکومت بلغراد اور جنوبی قصبے ویلیکا پلانہ میں کی گئیں۔ ملزمان پر نسل پرستی، نفرت انگیزی اور جاسوسی سمیت کئی سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔