برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر ایک شخص نے عوامی مقام پر قرآن پاک کی بے حرمتی کی، جسے عدالت نے مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے 240 پاؤنڈ (تقریباً 325 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا ہے۔
یہ واقعہ فروری میں پیش آیا جب ملزم نے قرآن پاک کا نسخہ جلایا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی، جس نے مذہبی حساسیت کو بڑھا دیا۔ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا، جہاں جج نے کہا کہ اگرچہ مذہبی کتاب جلانا بعض افراد کے لیے توہین آمیز ہو سکتا ہے، لیکن اس کیس میں ملزم کا رویہ، زبان اور مخصوص جگہ پر ایسا کرنا عوامی بدانتظامی اور اشتعال انگیزی کا باعث بنا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ کیس مذہب کی توہین پر نہیں بلکہ عوامی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ملزم نے عدالت میں اپنے دفاع میں کہا کہ وہ ترک حکومت کے خلاف احتجاج کر رہا تھا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کو لہرا رہا تھا، دوران احتجاج ایک شخص نے اس پر حملہ بھی کیا۔ تاہم، جج نے ملزم کی بدزبانی، قرآن پاک کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر نذر آتش کرنے اور نفرت انگیز رویے کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے عمل سے عوامی نظم و نسق متاثر ہوتا ہے۔
ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس کارروائی سے 2008 میں منسوخ شدہ توہین مذہب کے قانون کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر عدالت نے پراسیکیوشن کے موقف کو تسلیم کیا کہ یہ مقدمہ مذہب کی توہین کے بجائے عوامی بدانتظامی پر مبنی ہے اور ملزم کو مجرم قرار دے کر جرمانہ عائد کیا گیا۔یہ فیصلہ اس بات کا عندیہ بھی دیتا ہے کہ برطانیہ میں مذہب کی توہین کے معاملات کو کیسے قانونی دائرے میں لایا جاتا ہے، خاص طور پر جب یہ عمل عوامی امن و امان کو متاثر کرے۔ اس کیس سے واضح ہوتا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی حدیں تب ختم ہوتی ہیں جب وہ دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور عوامی نظم و ضبط کو نقصان پہنچانے لگے۔