ڈنمارک نے پہلی بار قرآن پاک کی بے حرمتی کے مقدمے میں دو افراد پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ڈنمارک میں قرآن کی توہین غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد نئے قانون کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق، یہ دونوں افراد گزشتہ برس جون میں ایک تہوار کے دوران سیاسی، معاشی، اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جمع کر کے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی۔ ان افراد کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائی عوامی سطح پر کی گئی تھی، اور اس کے بعد اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کی گئیں۔ڈنمارک کی حکومت نے 7 دسمبر 2023 کو قرآن کی بے حرمتی کو غیر قانونی قرار دینے کا بل منظور کیا تھا، جو چند دنوں بعد نافذ العمل ہو گیا۔ نئے قانون کے مطابق، اگر کوئی شخص قرآن کی بے حرمتی کرتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا پھر اسے دو سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام ڈنمارک اور سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے متعدد واقعات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کی وجہ سے مسلم کمیونٹیز میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔ اس سے قبل دونوں ممالک میں اس قسم کے واقعات میں اضافے کے بعد ان ممالک میں مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے، جس کے بعد حکام نے قرآن کی بے حرمتی کے خلاف سخت قوانین بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے اور عوامی سطح پر امن و سکون کو برقرار رکھا جا سکے۔