قانونی طور پر امریکہ کے پاس کسی دوسرے ملک کی فضائی حدود بند کرنے کا اختیار نہیں: وزارتِ خارجہ
کراکس (آئی این پی )ینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بیان وینزویلا کی عوام کے خلاف ایک اور غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت ہے۔ ہفتے کے روز امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا تمام ایئر لائنز، پائلٹس، منشیات فروشوں، اور انسانی سمگلروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ وینزویلا اور اس کے آس پاس کی فضائی حدود کو پوری طرح سے بند سمجھیں۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!۔ بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاوس نے اس متعلق تاحال جواب نہیں دیا ہے۔امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وینزویلا کی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کو اپنے ملک کی عوام کے خلاف ایک اور غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت قرار دے دیا۔قانونی طور پر امریکہ کے پاس کسی دوسرے ملک کی فضائی حدود بند کرنے کا اختیار نہیں۔ تاہم امریکی صدر کے بیان غیر یقینی صورتحال کی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایئر لائنز کو وہاں کام کرنے سے روک سکتی ہے۔یاد رہے کہ امریکہ کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام ہے۔ تاہم وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے منشیات کی سمگلنگ کے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض انھیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش ہے۔