پابندیوں کا کوئی جواز نہیں، میزائل پروگرام کسی جارحیت کیلئے نہیں ہمارے دفاع کیلئے ہے‘ دہشت گردوں کا سر دوبارہ کچلنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے:وزیراعظم

امریکی پابندیاں نامنظور میزائل پروگرام پر  سمجھوتہ نہیں ہوگا شہبازشریف

قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے  ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع کیا جائے،  اسے   سامنے رکھ کر مذکرات ہوں گے تو یقینا ملک میں سکون آئے گا قومی یکجہتی قائم ہوگی:و فاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
وفاقی کابینہ میں مختلف وزارتوں کے کئی اداروں کو بند اور بعض کو ضم کرنے کی تجاویز پیش‘ 42.1 ارب روپے کی بچت متوقع ‘ وزیراعظم نے دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا‘ محسن نقوی کی پاراچنار کی صورتحال پر بریفنگ

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  میزائل پروگرام کے سبب ہم پر عائد امریکی پابندیوں کا کوئی جواز نہیں، میزائل پروگرام پر کوئی  سمجھوتہ نہیں  کرینگے۔   وفاقی  کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم  نے کہا  جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا ہمارے ترقی و خوشحالی کی کاوشوں کے اصل ثمرات قوم تک نہیں پہنچ سکیں گے، اس کے لیے خاتمے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر تمام وسائل استعمال کیے جارہے ہیں، دہشت گردوں کا سر دوبارہ کچلا نہیں جاتا اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں بلوچستان اور کے پی دونوں کے حالات میں تھوڑا فرق ہے، فرقہ ورانہ ہلاکتوں پر بہت افسوس ہے ۔وزیراعظم نے میزائل پروگرام پر امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جو ہم پر پابندیاں عائد کی ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، پاکستان قطعی طور پر کوئی ایسا ارادہ نہیں رکھتا کہ اس کا ایٹمی پروگرام جارحیت کا شکار ہوجائے اس کا مقصد صرف پاکستان کی دفاعی قوت میں اضافہ کرنا ہے یعنی اگر پاکستان کے خلاف خدانخواستہ کوئی کارروائی ہوتی ہے تو ہم اس کا دفاع کرسکیں ہمارے دفتر خارجہ نے اس معاملے پر بھرپور جواب دیا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ یہ پروگرام نہ میرا نہ کسی پارٹی کا یہ 24 کروڑ عوام کا پروگرام ہے جو انہیں بہت عزیز ہے اس پروگرام پر کوئی کمپرومائزڈ نہیں ہوگا اور اس معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔انہوں نے کہا کہ کل ہماری پی ٹی آئی کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اسپیکر کے اقدام کے بعد میں نے مذاکراتی کمیٹی بنائی، دو جنوری کو کمیٹی کا اگلا اجلاس ہوگا، قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع کیا جائے، ذاتی پسند کو قربان کیا جائے اس کو سامنے رکھ کر مذکرات ہوں گے تو یقینا ملک میں سکون آئے گا قومی یکجہتی قائم ہوگی جس کی ضرورت ہے اور ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی کی نیت پر شک نہیں کررہا مگر نیت کچھ اور ہے تو فائدہ نہیں ہوگا، مجھے امید ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت مل کر کوئی ایسا حل نکالیں گے کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ملک کا فائدہ ہوگا، ہم خلوص کے ساتھ آگے بڑھیں گے مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے امید ہے کہ پی ٹی آئی بھی ملک کے مفاد میں کام کریگی‘دریں اثناء وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مختلف وزارتوں کے کئی اداروں کو بند اور بعض کو ضم کرنے کی تجاویز پیش کر دی گئیں جس سے قومی خزانے کو  42.1 ارب روپے کی بچت متوقع ہے جبکہ وزیراعظم نے دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پاراچنار کی صورتحال پر بریفنگ دی اوربتایا گیا کہ پارا چنار سے مریضوں کو دوسرے شہر منتقل کرنے کے لئے وزیراعظم کے زیر استعمال ہیلی کاپٹر مختص کیا گیا ہے۔ مزید برآں پاڑا چنار کے تمام اسپتالوں میں تمام ضروری ادویات دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔