فیفا نے عالمی سطح پر شدید مخالفت کے بعد ورلڈ کپ سمیت بڑے بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹس میں نجی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا متنازع منصوبہ واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ اس تجویز نے عالمی فٹبال برادری میں اختلافات کو جنم دیا، جس کے باعث اس منصوبے کو آگے بڑھانا کھیل کے مفاد میں نہیں رہا۔اس منصوبے کے تحت فیفا کی 211 رکن ایسوسی ایشنز کو حمایت کے بدلے 4 کروڑ ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا، ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) اور کونکاکاف نے اس کی سخت مخالفت کی۔یوئیفا نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ منصوبہ نافذ کیا گیا تو اس کے رکن ممالک ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر غور کریں گے۔دوسری جانب فیفا کے سینئر مشیر کارلوس کورڈیرو نے اس منصوبے کو عالمی فٹبال کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر کیون لامور نے اعتراف کیا کہ فیفا کی انتظامیہ کو بھی اس معاملے میں گمراہ کیا گیا۔شدید دباؤ کے بعد جیانی انفانٹینو نے کہا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو دوبارہ ایک میز پر لا کر باہمی مشاورت کے ذریعے فٹبال کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آئندہ سال ہونے والے فیفا صدارتی انتخابات سے قبل اس معاملے نے انفانٹینو پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔