شہر میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں اوپن مارکیٹ میں متعدد اشیاء سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ شہری مہنگائی کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے من مانے دام وصول کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے گراں فروشی کے خلاف مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق آم دوسہری کی سرکاری قیمت 230 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ آلو بخارہ 430 روپے کے بجائے 520 روپے فی کلو، جبکہ الائچی 645 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 750 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔اسی طرح آڑو اسپیشل کی سرکاری قیمت 257 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں اس کے 350 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ کیلا درجہ اول 215 روپے فی درجن کے بجائے 250 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔دیگر پھلوں میں جامن دیسی 180 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو جبکہ سفید خوبانی 320 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو دستیاب ہے۔
سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اروی کی سرکاری قیمت 100 روپے فی کلو ہے، مگر اوپن مارکیٹ میں یہ 130 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ ٹماٹر 180 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو، پیاز 107 روپے کے مقابلے میں 150 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔اسی طرح شملہ مرچ کی سرکاری قیمت 200 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ کریلا بھی 180 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 250 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے، سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور ناجائز منافع خوری میں ملوث دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔