9 مئی ، پی ٹی آئی کے اہم رہنمائوں 10سال قید کی سزا

 عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گْل، اور کنول شوزب سمیت 195 کو سزا سنائی گئی
 91 سزا پانے والے مجرموں کی جائیدادیں بھی بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم 
فیصل آباد، اسلام آباد ، راولپنڈی (خصوصی رپورٹ)فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے چار میں سے تین مقدمات کا فیصلہ سنا دیا۔ مجموعی طور پر تینوں مقدمات میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں اپو زیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں اپو زیشن لیڈر شبلی فراز، پارلیمانی لیڈر زرتاج گْل، اور کنول شوزب سمیت 195 مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں، جبکہ فواد چودھری ، شاہ محمود کے بیٹے زین قریشی سمیت87 کو بری کر دیا گیا۔ کچھ ملزموں کو تینوں مقدمات میں سزا سنائی گئی اور کئی تینوں میں بری ہو گئے۔9مئی کیس میں فیصل آباد کی عدالت نے 91 سزا پانے والے مجرموں کی جائیدادیں بھی بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا ہیسانحہ نو مئی کے حوالے سے فیصل آباد میں مجموعی طور پر چار مقدمات درج ہیں۔ جن میں سے تھانہ سول لائن میں دو جبکہ تھانہ غلام محمد آباد اور تھانہ سمن آباد میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔تھانہ سول لائن میں حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کرنے کے حوالے سے درج مقدمہ نمبر 832 کا سب سے پہلے فیصلہ سنایاگیا۔ مقدمہ نمبر 832 دہشت گردی ، اقدام قتل، سرکاری ملازمین سے مزاحمت کرنے، دھمکیاں دینے، سرکاری اور غیر سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے، روڈ بلاک کرنے، جلائوگھیرائو ، زخمی کرنے، ناجائز اسلحہ رکھنے سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیاگیا تھا۔ عدالت نے پہلا فیصلہ حساس ادارے پر حملہ کیس کے حوالے سے تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ کا سنایا۔ جس میں کْل 185 ملزموں کا ٹرائل ہوا۔ جن میں سے 108 ملزموں کو سزائیں سنائی گئیں اور 77 کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیاگیا۔ سزا پانے والوں میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اورکنول شوزب ، شیخ راشد شفیق ، اشرف سوہنا، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ اقبال، فرخ آغا، چودھری بلال اعجاز، محمد احمدچٹھہ، چودھری آصف علی، شکیل احمد خان نیازی، سردار عظیم اللہ ، مہر محمد جاوید، محمد انصر اقبال، عبدالرسول، محمد شہباز، شاہد اقبال ، ظہیر عباس، عمران ، محمد امین علی، ذیشان، طیب حسین، انشاء￿  اظہر، عامر سلطان، محمد اعظم، محسن خورشید، عمیر، عبدالرحمن، عاقب، احد طارق، ارسلان نظیر، خالق، بلاول، فرحان مقصود، رمضان، عبدالرحمان رمضان، احمد فاروق، افراسیاب ارسلان سلطان ، تقی عباس، زین عباس جاوید، رفاقت، محبوب علی، محمد عمر، محمد وقاص، نوید صفدر، منتظر الیاس، علی حیدر ولد عمران، علی رضا ، شہروز عباس، مستنصر، عمران رفیق، محمد آصف طفیل ، حیدر رضا، صہیب، فیصل ، عثمان، وقاص رمضان، ثاقب، حظیفہ، فیضان اللہ، ندیم احمد ، شہباز شکیل، سید توصیف حسین، زین عباس ، اریب ، حبیب اللہ، شاہ زمان، سید قندیر حسین، جہانزیب خالد، امبرین فاطمہ، علی رضا شفیع، بلال افضل ، معظم اسلم ، شفیق مشتاق، ایاز خان ، کاشف علی خا ن، صاحبزادہ حامد رضا، تہمینہ ریاض، محمد اذان، نعمان علی، آصف اسلم، کلیم عالم، محمد ندیم ، رانا ناصر علی، محمد یونس ، محمد رحمان ، راشد علی ، نوید صابر، شہیر ولد ساجد، سیف اللہ، عبداللہ ، بلال ، مرزا خان، محمد کاشف ، مطلوب چشتی، شکور الفہیم، بابر سلیم، عمر طاہر ، رانا آفتاب، شبان کبیر شامل ہیں، ان کو دس دس سال کی سزا کا حکم سنایا گیا جبکہ جنید افضل ساہی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بری ہونے والوں میں فواد چودھری ، زین قریشی، فیض اللہ کموکا، ملک جہانزیب الیاس زیبی، رانا آصف محمد خان، خرم اعجاز کاہلوں، بلال اشرف بسرا، عمران سلیم، ہارون رشید ، مسز خانسہ اعجاز، عمارہ رشید ، نازیہ سردار، احتشام جاوید، صاحبزادہ حسن رضا، حسن زکاء￿  نواز، کامران ورک، عبدالحسیب الیاس ٹیپو، ابوبکر صدیق، رانا منیر بابر، عابد علی عابد، خالد شفیق، میاں محمد طیب، شہباز امیر علی، محمد عامر محمود، بخش علی، محمد مدثر ایوب، کاشف احسان، ساجد علی، زبیر انجم، رانا علی، نجم الحسن، قرٓ العین ، محمد ریاض، سمیع اللہ، فیض محمد ، محمد ناصر جمال، محمد یونس ، سفیان حفیظ بھٹی، جاوید اقبال، عمران علی ، سرفراز احمد، شیراز حسین ملہی، محمد سلیم خان، محی الدین، فرحان ولد ہمایوں خان، عبدالرزاق خان نیازی، رانا اسرار احمد خان، زاہد محمود، مخدوم احمد کوثر، سلیمان باری، شہریار علی، محمد نوید ، محمد اویس خان، علی انوار، محمد فیصل یعقوب، راشد قدیر ، عثمان اشرف، عبدالقدوس، اورنگزیب، نرگس منیر، محمد عبداللہ رائو، عمران الیاس، عبدالمطلب نواز، رانا عامر حسین، محمد انور، جوئیل عامر سہوترا، ندیم آفتاب سندھو، ذوالفقار علی، رقیہ قیوم ، محمد فاروق سارک، سید ریاض عباس، محمد سعید ، پروین زمان اعوان، شہزاد اکرم، محمد قاسم ، محمد اقبال اور منیر احمد شامل ہیں جنہیں بری کردیاگیا۔ عدالت نے دوسرا فیصلہ تھانہ غلام محمد آباد پر حملہ کیس کے حوالے سے درج مقدمہ کا سنایا۔اس مقدمے میں بھی دہشت گردی، اقدام قتل ، سرکاری اور غیر سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانا، جس میں کْل 66 افراد کا ٹرائل ہوا۔ عدالت نے اس مقدمے میں بھی پی ٹی آئی کے رہنمائوں شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل اور کنول شوزب سمیت 60 ملزموں کو دس دس سال قید کی سزا سنائی، جبکہ فواد چودھری، زین قریشی اور خیال احمد کاسترو سمیت 6 ملزموں کو بری کردیا گیا۔ تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ کا فیصلہ بھی کچھ وقفے کے بعد سنا دیا گیا۔ اس مقدمے میں بھی دہشت گردی، اقدام قتل ، سرکاری اہلکاروں سے مزاحمت کرنے اور تشدد کانشانہ بنانے، جلائو گھیرائو کرنے ، سرکاری گاڑی کو نذر آتش کرنے، توڑ پھوڑ اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔ جس میں 32 ملزموں کا ٹرائل ہوا۔ تیسرے مقدمے میں بھی عدالت نے شبلی فراز، عمر ایوب، زرتا ج گل اور کنول شوزب سمیت دیگر 28 ملزموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی جبکہ فواد چودھری ، زین قریشی، خیال احمد کاسترو اور عبداللہ خان دمڑ کو بری کر دیا گیا۔ تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ نمبر 835 کا فیصلہ بھی کچھ وقفے کے بعد سنا دیا گیا۔ اس مقدمے میں بھی دہشت گردی، اقدام قتل ، سرکاری اہلکاروں سے مزاحمت کرنے اور تشدد کانشانہ بنانے، جلائو گھیرائو کرنے ، سرکاری گاڑی کو نذر آتش کرنے، توڑ پھوڑ اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔ جس میں 32 ملزموں کا ٹرائل ہوا۔ تیسرے مقدمے میں بھی عدالت نے شبلی فراز، عمر ایوب، زرتا ج گل اور کنول شوذب ، آصف ، غلام خان ، خدمت اللہ ، شہزاد فاروق، عاصم جاوید ، محمد اشفاق ، علی احمدرفیق گل ، محمد عفان سرور ، محمد عمر فاروق ، رائے حیدر علی خان ، رائے حسن نواز ، رائے مرتضیٰ اقبال ، شکیل خان نیازی ، عظیم اللہ خان ، مہر محمد جاوید ، شیخ راشد شفیق، فرح آغا ، فرخندہ کوکب ،محمد اشرف خان، محمد احمد چٹھہ ، چودھری محمد آصف، محمد انصر اقبال ، بلال اعجاز کو دس دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ فواد چودھری ، زین قریشی، خیال احمد کاسترو اور عبداللہ خان دمڑ کو بری کر دیا گیا۔ عدالتی فیصلوں کے بعد پی ٹی آئی وکلاء￿  کی جانب سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ انصاف کے حصول کیلئے وہ اعلیٰ سطحی فورم پر بھی جائیں گے اور اپنے موقف کو سامنے رکھیں گے۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے گزشتہ ہفتے 22 جولائی کو 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر سمیت تحریک انصاف کے 32 رہنمائوں اور کارکنوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے احمد بھچر کو نااہل قرار دے دیا تھا، پنجاب اسمبلی میں اپویشن کے عہدے کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔اسی روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے شیرپائو پل جلائو گھیرائو کیس میں پی ٹی آئی کے رہنمائوں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری اور سرفراز چیمہ کو 10 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ادھر 24نومبر احتجاج کے مقدمات میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سمیت نامزد 66 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ان میں ، علیمہ خان ، علی امین ، خورشید خان ،عمر ایوب، اسد قیصر ،عارف علوی ،حماد اظہر،شیخ وقاص اکرم ،کرنل اجمل صابر ،کنول شوزب ،زبیر نیازی ، میاں اسلم اقبال شامل ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری ٰبی بی تھانہ ٹیکسلا کے کانسٹیبل شہید مقدمہ سمیت تمام مقدمات میں مرکزی نامزد ملزم قرار دیئے گئے ہیں۔پراسیکیوشن نے ملزموں کی ضمانت منسوخی اور ضامنوں کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔ ضامنوں کیخلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ نومبر احتجاج کے راولپنڈی میں31 مقدمات کا ٹرائل جاری ہے ،نومبر احتجاج کے مقدمات کے حوالے سے انسداد دہشتگری عدالت کے باہر پراسیکیوشن ٹیم کے پراسیکیوٹرز سید ظہیر شاہ نے محمد یوسف ، رمضان قصوری کے ہمراہ میڈیا ٹاک کرتے ہوئے بتایا کہ تھانہ صادق آباد کے کیس میں کل 111 ملزم ہیں جن میں نو کو فرد جرم قبول کرنے پر سزا ہو چکی ۔ 68 ملزم مسلسل غیر حاضر ہیں۔وکلاء￿  صفائی مسلسل تاریخیں مانگ رہے ہیں۔ہم نے 66 ملزموں کے خلاف ضمانت منسوخی درخواست دائر کی ہے۔ پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے کہا کہ اعلیٰ قیادت سمیت 15 اہم ملزموں کے راولپنڈی کے 10 مقدمات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ہیں۔شیخ وقاص، کنول شوزب، زبیر نیازی، میاں اسلم اقبال اور اجمل صابر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری حاصل کئے ہیں۔پولیس کو ہدایات دی گئی ہیں عدالتی احکامات پر عمل در آمد کریں۔یہ ملزم ماسٹر مائنڈ تھے۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ کے مطابق صادق آباد کے درج مقدمہ میں 28 ، واہ کینٹ کے مقدمہ میں 18اور تھانہ نصیر آباد کے مقدمہ میں 20 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری حاصل کئے گئے ہیں جن میں علی امین گنڈا پور، علیمہ خان، عمر ایوب، اسد قیصر، عارف علوی، خورشید خان اور حماد اظہر کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری حاصل کئے گئے ہیں۔مقدمات میں نامزد ملزم ٹرائل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔جن ملزموں نے ضمانت کی اور پھر روپوش ہوگئے ان کی ضمانت منسوخی کے لئے بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے بتایا کہ ضلع راولپنڈی میں 26 نومبر کے 11 مقدمات، اٹک کے 20 مقدمات جبکہ چکوال میں ایک مقدمہ درج ہے۔13 ملزم عبوری ضمانتوں پر ہیں۔عمر ایوب کی ضمانت خارج ہو چکی لیکن وہ سرینڈر نہیں کر رہے۔26 نومبر کے مقدمات میں کسی کا جیل ٹرائل نہیں ہو رہا۔26 نومبر کے تمام مقدمات میں بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نامزد ہیں۔26 نومبر کے مقدمات میں سپریم کورٹ کی کوئی ہدایات نہیں ہیں۔انسداددِہشتگردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں رئوف حسن، جنیداکبر کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دئیے۔ رئوف حسن، جنیداکبر اپنی وکیل عائشہ خالد کے ساتھ عدالت پیش ہوئے،انسداددِہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی۔ رئوف حسن اورجنیداکبر کی جانب سے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی گئی،عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 18 ستمبر کو دلائل طلب کرلئے۔ عدالت نے گواہان سے جرح ہفتہ 2 اگست تک ملتوی کر دی۔ تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 26 ملزموں کا ٹرائل جاری ہے۔عالیہ حمزہ اور صنم جاوید ملزموں میں شامل ہیں،زیر حراست رہنما شاہ محمود قریشی ، اعجاز چودھری ، عمر سرفراز چیمہ،میاں محمودالرشید ملزموں میں شامل ہیں۔ انسداددہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نے18 مارچ احتجاج کیس میں مسلسل عدم پیشی پر پی ٹی آئی کے فیصل آباد سے ایم این اے علی افضل ساہی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ آج تک علی افضل ساہی اس عدالت میں پیش نہیں ہوا،عدالت نے علی افضل ساہی سمیت پی ٹی آئی کے غیر حاضر کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 اگست تک ملتوی کردی۔ انسداددہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نیپی ٹی آئی قیادت اور رہنمائوں کیخلاف جوڈیشل کمپلیکس حملہ اور مختلف احتجاج پر درج مقدمات میں غیر حاضر ملزموں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرد ئیے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی و دیگر کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائرکی گئیں جوعدالت نے منظور کر لیں، عدالت نے غیر حاضر ملزموں کے ضمانتی مچلکے ضبط کرتے ہوئے غیر حاضر ملزموں کے ضمانتی کو نوٹسز جاری اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کرد ئیے، عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی ، تھانہ بہارہ کہو کے مقدمہ میں بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث کیس پر کوئی کارروائی نہ ہوسکی اورسماعت 4 اگست تک ملتوی کردی گئی، 26 نومبر احتجاج پر تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے مسلسل غیر حاضر ملزموں کی ضمانتیں خارج کرتے ہوئیغیر حاضر ملزموں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے، دوران سماعت کیس کے حوالے سے فرانزک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروا دی گئی، عدالت نے کیس کی سماعت 5 اگست تک ملتوی کردی،عدالت نے26 نومبر تھانہ کوہسار کے مقدمہ کی سماعت 4 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے غیر حاضر ملزموں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔