’سزا یافتہ افراد کے لیے فورس نہیں بننی چاہیے‘: وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ کے پی سے جواب طلب کر لیا

’سزا یافتہ افراد کے لیے فورس نہیں بننی چاہیے‘: وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ کے پی سے جواب طلب کر لیا

وفاقی آئینی عدالت میں صوبہ خیبر پختونخوا میں مبینہ "رہائی فورس" کی تشکیل سے متعلق ہے۔ 

عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو دس دن کے اندر جواب جمع کروانے کا نوٹس جاری کیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے بیان “ہمارا مقابلہ ڈاکوؤں کے ساتھ ہے” کے باوجود یہ فورس آئینی اور قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔وکیل نے سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے کراچی ہائیکورٹ کے فیصلے اور متعلقہ آرٹیکلز بھی پیش کیے، جن میں غیر قانونی فورس کی تشکیل کی ممانعت شامل ہے۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا صوبائی کابینہ نے ایسی فورس بنانے کی منظوری دی؟ وکیل نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی جانب سے کوئی منظوری نہیں دی گئی۔چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سزا یافتہ افراد کے لیے اس نوعیت کی فورس نہیں بننی چاہیے اور وفاقی حکومت یقینی بنائے کہ کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔کیس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی، اور مزید کارروائی کے لیے جواب طلب کر لیا گیا۔یہ اقدام صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں اور آئینی حدود کے تعین سے متعلق ہے، کیونکہ غیر قانونی فورسز کی تشکیل قانونی اور آئینی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔