کینیڈا میں سکھ رہنما درشن سنگھ سہسی کا قتل، "را" کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے

کینیڈا میں سکھ رہنما درشن سنگھ سہسی کا قتل،

کینیڈا کے شہر وینکوور میں معروف سکھ رہنما اور بین الاقوامی کمپنی کینم انٹرنیشنل کے صدر، درشن سنگھ سہسی، کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

 ابتدائی تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بھارتی قونصل خانے کے عملے کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" بیرونِ ممالک میں سرگرم علیحدگی پسند سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ یہ نیٹ ورک سیاسی اور سفارتی سرپرستی میں ایسے اقدامات انجام دے رہا ہے تاکہ سکھ برادری کو خوفزدہ اور دباؤ میں رکھا جا سکے۔ درشن سنگھ سہسی کا قتل بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور سفارتی مداخلت کا ایک واضح ثبوت ہے۔

دوسری جانب، سکھ فار جسٹس (SFJ) تنظیم نے درشن سنگھ سہسی کے قتل کے خلاف کینیڈا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" اور بھارتی قونصل خانوں کے ملوث ہونے کے امکانات موجود ہیں، تاکہ بیرون ملک مقیم سکھوں کو خوفزدہ اور دباؤ میں لایا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ بھارت کی مودی سرکار کی جانب سے جاری دہشت گردانہ پالیسی کا حصہ ہے، جو نہ صرف سکھ برادری بلکہ کینیڈا کی قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ یہ حملہ عالمی سطح پر بھارت کے کردار اور اس کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔