حنا جاوید قتل کیس: ڈی این اے رپورٹ کی سمری سامنے آگئی، تین ملزمان سے متعلق اہم شواہد کا دعویٰ

حنا جاوید قتل کیس: ڈی این اے رپورٹ کی سمری سامنے آگئی، تین ملزمان سے متعلق اہم شواہد کا دعویٰ

لاہور: حنا جاوید قتل کیس میں ڈی این اے رپورٹ کی سمری سامنے آنے کے بعد مقدمے نے اہم رخ اختیار کرلیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کے حوالے سے ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ملزمان میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر، گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور سسر فیاض اصغر شامل ہیں۔رپورٹ کی سمری کے مطابق مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کا ڈی این اے چار مختلف مقامات سے میچ ہونے کا بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے فنگر پرنٹس مقتولہ کی گردن، کپڑوں اور کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر پائے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر قتل میں استعمال ہونے والی چادر سے بھی فیصل اصغر کے فنگر پرنٹس ملنے کی اطلاع ہے۔

گھریلو ملازم کے ڈی این اے سے متعلق دعویٰ

ڈی این اے رپورٹ کی سمری میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ حنا جاوید کے ناخنوں سے حاصل کیے گئے نمونوں میں گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے میچ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے جسم پر بھی ذیشان کے فنگر پرنٹس ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔فرانزک نتائج میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقتولہ کی موت گلا گھونٹنے کے نتیجے میں ہوئی اور واقعے کے دوران مزاحمت کے آثار سامنے آئے۔ تاہم فرانزک شواہد کی حتمی قانونی اہمیت کا تعین مکمل تفتیش اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

مقتولہ کے بھائی کا تفتیش پر سوالات

دوسری جانب مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ سامنے آنے کے باوجود کیس کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق قتل کی تمام تر ذمہ داری گھریلو ملازم ذیشان ارشد پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔فہد جاوید اور دیگر اہلخانہ نے ابتدا ہی سے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں، فرانزک شواہد اور نامزد ملزمان کے کردار کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی اہم پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

مقتولہ کے اہلخانہ نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ واقعے کے تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے۔حنا جاوید قتل کیس میں ڈی این اے رپورٹ کی سمری اور دیگر مبینہ فرانزک شواہد کی روشنی میں اب تفتیش کے تمام پہلوؤں کی جانچ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ تاہم ملزمان کے خلاف الزامات اور فرانزک نتائج کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ تفتیشی عمل اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔