اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ سے شہریوں کی حفاظت کے لئے بینکوں اور حکام کی ہدایت

اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ سے شہریوں کی حفاظت کے لئے بینکوں اور حکام کی ہدایت

بینکوں اور ماہرین نے شہریوں کو اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ کے فراڈ سے خبردار کیا ہے، کیونکہ یہ نیا اور خطرناک سائبر جرم ہے۔

اس طریقہ واردات میں جعلساز مخصوص ڈیوائسز کے ذریعے اے ٹی ایم کے کیش سلاٹ میں داخل ہوتے ہیں اور نقد رقم کو پھنساتے ہیں، جس سے صارفین کی رقم اندر ہی رہ جاتی ہے۔ جیسے ہی صارف اے ٹی ایم سے باہر نکلتا ہے، ملزمان رقم نکال لیتے ہیں۔اس فراڈ میں استعمال ہونے والی آلات میں سب سے معروف "گلو ٹریپ" شامل ہے، جو یا تو سامنے نصب ہوتا ہے یا اندر چھپایا جاتا ہے۔ ٹائپ ون کیش ٹریپ صارفین کو نظر آتا ہے، لیکن وہ اس میں فرق نہیں کر پاتے، جبکہ ٹائپ ٹو چھپے ہوئے آلات ہوتے ہیں، جنہیں صارفین نہیں دیکھ پاتے۔ بعض اوقات جعلی شٹر یا نقلی کیش ڈسپنسر بھی نصب کیے جاتے ہیں تاکہ اصل رقم پھنس جائے اور ملزمان آسانی سے رقم نکال سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری احتیاط برتیں، جیسے کہ کارڈ سلاٹ کو اچھی طرح چیک کریں، مشکوک عناصر یا غیر معمولی ساخت کو دیکھ کر استعمال نہ کریں، اور پن درج کرتے وقت پیڈ کو ڈھانپیں۔ اگر رقم نہ نکلے یا مشین میں کچھ مشتبہ لگے، تو فوراً بینک سے رابطہ کریں اور مشین کا استعمال نہ کریں۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا بھی کہنا ہے کہ بینکوں کو اپنی اے ٹی ایم مشینوں پر "اینٹی کیش ٹریپنگ" ڈیوائسز نصب کرنی چاہئیں اور مشینوں کو بروقت اپ گریڈ کرنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی میں ماہر ملزمان کے سبب وارداتیں پیچیدہ ہوتی جارہی ہیں، اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سکیورٹی سسٹمز کو مضبوط بنائیں اور عوامی آگاہی مہمات کو تیز کریں تاکہ شہری خود کو اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رکھ سکیں۔