’’جس کی ملکیت، اسی کا حق‘‘: پنجاب میں قبضہ مافیا کا خاتمہ، زمین کا تحفظ یقینی

’’جس کی ملکیت، اسی کا حق‘‘: پنجاب میں قبضہ مافیا کا خاتمہ، زمین کا تحفظ یقینی

پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں نیا قانون پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف موویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی منظوری دی گئی ہے۔

 اس نئے قانون کے تحت ہر زمین کے مالک کو اپنے حق کا محافظ قرار دیا جائے گا اور غیر قانونی قبضہ فوری طور پر ختم کیا جا سکے گا۔نئے آرڈیننس کے مطابق، ہر ضلع میں ایک ڈِسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کا مقصد عدالت جانے سے پہلے قبضہ کے کیسز کا فوری حل تلاش کرنا ہے۔ یہ کمیٹیاں ہر کیس کا فیصلہ صرف 90 دن کے اندر کریں گی۔ اگر کسی فریق کو فیصلہ سے اعتراض ہو تو وہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل میں اپیل کر سکتا ہے، جو 90 دن کے اندر اپیل کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔اضافی طور پر، ضلعی کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے، اور کمیٹیوں کو 30 دن کے اندر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 قبضہ کیس کے فیصلے کے بعد، 24 گھنٹے کے اندر زمین کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے، پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔شفافیت کے لیے، ڈیجیٹل ریکارڈ اور سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ کے امکانات بھی زیر غور ہیں تاکہ زمین کے مالکان اور عوام کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ اب پنجاب میں کسی کی زمین نہیں چھینی جائے گی، اور ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "جس کی ملکیت، اسی کا حق ہے، قبضہ مافیا کا باب بند کر دیا گیا ہے"۔