حکام نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور کم از کم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے صنعتی یونٹس میں انسپکشن کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سلسلے میں، کم از کم اجرت نہ دینے والی فیکٹریوں کے خلاف سخت چیکنگ اور فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سپیشل برانچ کو بھی انسپکشن مانیٹرنگ کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے تاکہ عملدرآمد پر موثر نگرانی کی جا سکے۔حکومت کا موقف ہے کہ حکومتی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے صنعتی یونٹس میں چیکنگ کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق، پنجاب میں اب تک 1 لاکھ 66 ہزار 217 انسپکشنز کی جا چکی ہیں، اور کم اجرت دینے پر رواں مالی سال میں 300 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
ان انسپکشنز کے نتیجے میں 23 لاکھ سے زائد مزدوروں کو مکمل اجرت دلائی گئی ہے۔او ایس ایچ (OSHE) سیفٹی ڈرائیو کے دوران 8 ہزار 690 انسپکشنز کی گئیں جن میں 4 ہزار 773 اداروں کو وارننگز اور ایڈوائزری جاری کی گئیں، جبکہ 2 ہزار 94 خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی گئی۔اس دوران، 378 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 33 صنعتی یونٹس کو سیل کیا گیا۔