پنجاب میں قبضہ مافیا، پلاٹوں میں فراڈ اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کڑی قانون سازی کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
حکومت نے جعلی فائل سسٹم اور عوامی شکایات کے مؤثر تدارک کے لیے جامع اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیرِ صدارت بورڈ آف ریونیو میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر) نبیل جاوید، سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل، ڈی جی ایل ڈی اے، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منظوری سے متعلق خصوصی سافٹ ویئر تیار کرے گی۔ ڈیجیٹل ریونیو ریکارڈ، این او سیز کی فراہمی اور دیگر متعلقہ امور کو 90 روز کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی تشہیر روکنے، پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات منجمد کرنے سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے واضح کیا کہ سیلابی پانی کی گذرگاہوں پر کسی قسم کی آبادکاری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور منظور شدہ اراضی سے زائد پلاٹوں کی فروخت بھی ممنوع ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ الاٹ شدہ اراضی کی اقساط کی ادائیگی کے بعد جگہ تبدیل کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ جعلسازی، دھوکہ دہی اور فراڈ میں ملوث عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں۔