عرب وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ، اسرائیل نے اجازت دینے سے انکار کر دیا

عرب وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ، اسرائیل نے اجازت دینے سے انکار کر دیا

اسرائیل نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب وزرائے خارجہ کے ایک وفد کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات سے روک دیا ہے۔

 اسرائیلی حکام نے اس فیصلے کی وجہ "فلسطینی ریاست کے قیام کو فروغ دینے والے اشتعال انگیز اجلاس" کو قرار دیا ہے ۔اس وفد میں سعودی عرب، اردن، مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے، جو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے رام اللہ میں اجلاس منعقد کرنا چاہتے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے اس اقدام کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور فرانس اگلے ماہ اقوام متحدہ میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حال ہی میں کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "اخلاقی فریضہ اور سیاسی ضرورت" ہے ۔اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کے اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، اور یہ اقدام اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
 
 
 
 
 
Sources