ریاض/رام اللہ:سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی جانب سے عرب وزرائے خارجہ کو رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر شدید ردعمل دیا ہے۔
انہوں نے اس اقدام کو اسرائیلی انتہا پسندی کی ایک واضح علامت قرار دیا۔اپنے بیان میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ جانے سے روکنے کا اقدام نہ صرف امن کے خلاف ہے بلکہ یہ اسرائیلی حکومت کے تکبر اور غیرلچکدار رویے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اسرائیلی رویے نے ہماری سفارتی کوششوں کو مزید تقویت دی ہے، اور ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔"سعودی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا نوٹس لے، جو نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
واضح رہے کہ آج سعودی عرب، مصر، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے رام اللہ کا دورہ کرنا تھا، تاہم اسرائیلی حکومت نے اس دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔اس فیصلے پر عرب دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی ممالک نے اسے اسرائیل کی جانب سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔