امریکہ نے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو پرائیویٹ طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے کچھ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو آگے نہ بڑھائیں۔
تاہم، اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ انتباہ "بات چیت ختم ہونے" کے مترادف نہیں ہے اور نیتن یاہو اگلے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سینئر اسرائیلی اہلکار کے مطابق، یہ وارننگ امریکہ کی جانب سے متعدد مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں دی گئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران فرانس، کینیڈا، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ سیٹلمنٹس کی پالیسی روکے اور غزہ میں ناکہ بندی سے انسانی بحران پیدا نہ کرے۔ ان ممالک نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل اپنی پالیسی نہ بدلے تو وہ فلسطین کو تسلیم کر لیں گے۔
اب جب کہ پانچ اہم ممالک نے فلسطین کو تسلیم کر لیا ہے، نیتن یاہو ان کے مطالبات کے برخلاف مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، واشنگٹن اس منصوبے کی حمایت نہیں کر رہا، تاہم نیتن یاہو اپنی امریکہ کی آمد کے بعد اس معاملے پر بات چیت جاری رکھیں گے۔