ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: غزہ جنگ بندی کیلئے زبردست پیش رفت، معاہدہ جلد متوقع

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: غزہ جنگ بندی کیلئے زبردست پیش رفت، معاہدہ جلد متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے غیر معمولی پیش رفت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام ممالک نے غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ حماس نے مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق، “ہم مشرقِ وسطیٰ میں 3 ہزار سال پرانا تنازع حل کرنے جا رہے ہیں۔”ٹرمپ نے بتایا کہ ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی امن کوششوں میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپنی پالیسیوں کے ذریعے انہوں نے “تجارت اور ٹیرف کے ذریعے سات جنگیں روکیں، حتیٰ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی رکوائی، جس میں سات طیارے گرائے گئے تھے۔”انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ وہ یرغمالیوں کی ڈیل کے معاملے پر منفی رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔امریکی صدر نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا شٹ ڈاؤن انہی کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو صحت کی سہولتیں دینا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے سابق صدر اوباما کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر کی سبسڈیز نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق، شکاگو بدامنی کا شکار ہے جبکہ فوج کی تعیناتی کے بعد واشنگٹن ڈی سی اب پرامن شہر بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا احترام کرتی ہے اور اردوان غزہ میں امن کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران انہیں ٹیلی پرامپٹر کی خرابی اور آواز کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔