اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی پر آمادہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی پر آمادہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں جنگ کے خاتمے کیلئے تمام فریقین کے ساتھ مل کر مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

اسرائیلی حکام سے نتیجہ خیز ملاقات
امریکی صدر کے مطابق ان کے نمائندوں کی اسرائیلی حکام سے غزہ کی موجودہ صورتحال پر ایک طویل اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے، جس میں امن کی بحالی اور جنگ بندی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر پیغام
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا:"ہمیں امید ہے کہ حماس اس جنگ بندی معاہدے کو قبول کرے گی، اگر ایسا نہ ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 60 دن امن کے لیے ایک موقع ہیں، جس سے ہم پورے خطے کو ایک بہتر سمت میں لے جا سکتے ہیں۔"

جنگ بندی کا عندیہ پہلے بھی دیا گیا تھا
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ "غزہ میں جنگ بندی اگلے ہفتے تک ممکن ہو سکتی ہے"۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی 7 جولائی کو امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔

عالمی برادری کی نظریں
اس ممکنہ جنگ بندی کو بین الاقوامی برادری ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے، کیونکہ غزہ میں انسانی بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف فلسطینیوں کیلئے راحت کا باعث ہوگا بلکہ خطے میں کشیدگی میں بھی کمی آسکتی ہے۔