ویب ڈیسک : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کے خلاف ایک منصوبہ بند، منظم اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
تحریک کا دائرہ اسلام آباد سے باہر ہوگا
سینیٹر علی ظفر کے مطابق:"یہ احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔"انہوں نے مزید بتایا کہ:عمران خان نے کہا ہے کہ پارٹی کو "دیوار سے لگا دیا گیا ہے"۔اب سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں۔
تحریک کی قیادت جیل سے
علی ظفر نے انکشاف کیا کہ عمران خان:"خود جیل سے تحریک کو چیئرمین کی حیثیت سے لیڈ کریں گے۔"انہوں نے یہ بھی کہا کہ:بانی نے انہیں تحریک کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری دی ہے۔آئندہ ملاقات میں عمران خان کو پلان پیش کیا جائے گا۔
تحریک کی نوعیت اور انداز
سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ:عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اس بار کی تحریک ماضی سے مختلف ہو گی۔یہ تحریک منصوبہ بندی، تیاری اور حکمت عملی کے ساتھ چلائی جائے گی۔عمران خان نے کہا:"تحریک میں رکاوٹیں آئیں گی لیکن ہمیں طریقے آتے ہیں۔"
وکلا، قیادت اور مشاورت
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی وکلا اور قیادت سے مشاورت کے بعد تمام حکمت عملی تیار کی جائے گی۔مختلف رہنماؤں کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔لیکن تحریک کی براہِ راست قیادت عمران خان خود کریں گے۔
عدلیہ و ایگزیکٹو پر عدم اعتماد
عمران خان کا مؤقف تھا کہ:"ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں ملا، ہر دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔"ان کا مزید کہنا تھا کہ:"اب ہم اس سے زیادہ دیوار کے ساتھ نہیں لگ سکتے۔"
اہم نکات
تحریک کا آغاز جلد متوقع ہے۔تمام ہدایات جیل سے جاری ہوں گی۔عمران خان کا پارٹی قیادت پر اعتماد برقرار ہے۔اس تحریک کو "نتیجہ خیز اور فیصلہ کن" بنایا جائے گا۔
تجزیہ
عمران خان کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا یہ اعلان ان کے سیاسی بیانیے میں شدت کا اشارہ ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اب جیل سے کی جائے گی، جو پارٹی کو مزاحمت اور جدوجہد کی نئی شکل دینے کی کوشش ہے۔ آنے والے دنوں میں تحریک کی حقیقی نوعیت، عوامی ردعمل اور ریاستی اداروں کا رویہ اس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔