بھارتی لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے بعد ملک بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے اس بل کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ایک بھرپور قومی سطح پر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد فضل الرحمٰن مجددی نے کہا کہ "قیادت کسی قربانی سے گریز نہیں کرے گی" اور "انصاف پسند قوتوں کے ساتھ مل کر ظالمانہ ترامیم کے خلاف ایک مضبوط تحریک چلائی جائے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس تحریک کا آغاز دہلی کے ٹاکٹورا اسٹیڈیم میں ایک عظیم عوامی اجتماع سے ہوگا، جو عیدالاضحیٰ تک جاری رہے گا۔مولانا مجددی نے بتایا کہ تحریک کے پہلے مرحلے میں "وقف بچاؤ، دستور بچاؤ" مہم چلائی جائے گی، جس کا مقصد عوام میں اس بل کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا اور مکمل پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرے گا، جس میں مظاہرے، سیاہ بازو بند، گول میز اجلاس اور پریس کانفرنسز شامل ہوں گی۔مزید برآں، ہر ریاستی دارالحکومت میں مسلم رہنما علامتی گرفتاری دیں گے اور ضلعی سطح پر احتجاجی پروگرامز منظم کیے جائیں گے۔ دہلی، ممبئی، کولکتہ، حیدرآباد، بنگلور، لکھنؤ اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرام کیے جانے کی توقع ہے۔یہ تحریک اس بات کی غماز ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑا سیاسی اور سماجی احتجاج جنم لے رہا ہے، جس کی نظریں عالمی سطح پر بھی ہیں۔