ویب ڈیسک : پاکستان کے مایہ ناز جیولن تھرو ایتھلیٹ اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر دیا ہے۔
انہوں نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025 میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ارشد ندیم نے فائنل میں تیسری باری پر 85.57 میٹر اور آخری باری پر 86.40 میٹر کی تھرو کرتے ہوئے میدان مار لیا۔ ان کی یہ کارکردگی ایشیا بھر کے مقابل کھلاڑیوں پر ان کی برتری ثابت کرتی ہے۔پاکستان کے دوسرے ایتھلیٹ یاسر سلطان نے بھی نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 75.50 میٹر کی تھرو کی، مگر وہ میڈل کی دوڑ سے باہر رہے۔ اس ایونٹ میں بھارت کے سچن یادو نے چاندی (سلور میڈل) جیتا۔یاد رہے کہ ارشد ندیم اس سے قبل پیرس اولمپکس میں بھی گولڈ میڈل جیت چکے ہیں، اور ان کی یہ فتوحات پاکستان کی ایتھلیٹکس تاریخ میں ایک نیا سنہری باب رقم کر رہی ہیں۔
ادھر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے ارشد ندیم کو کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا:"شاباش ارشد ندیم، شاباش! ہمیں آپ پر ناز ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ارشد کی ہے بلکہ ان کے کوچ اور اہل خانہ کی محنت کا ثمر بھی ہے۔"
تجزیہ:
ارشد ندیم کی لگاتار کامیابیاں نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہیں بلکہ یہ حکومت اور کھیلوں کے اداروں کے لیے بھی ایک پیغام ہیں کہ اگر مکمل تعاون اور سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستانی ایتھلیٹس بھی عالمی سطح پر چمک سکتے ہیں۔
اختتامیہ:
ارشد ندیم جیسے باصلاحیت ایتھلیٹس پاکستان کے اصل ہیرو ہیں۔ ان کی کامیابیاں ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔