پنجاب حکومت کا بڑا اقدام: غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن کی منظوری

پنجاب حکومت کا بڑا اقدام: غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن کی منظوری

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن اور ہاؤسنگ سیکٹر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا اعلان

تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ سیکٹر سے متعلق خصوصی اجلاس میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ریگولرائز کرنے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی ہے۔ اجلاس میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی رجسٹریشن کے لیے غیر ضروری این او سی کی پابندیاں ختم کرنے اور پراسیس کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔پنجاب میں پہلی مرتبہ "ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم" متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت سوسائٹی کی منظوری، مینجمنٹ اور ٹرانسفر کے تمام مراحل آن لائن مکمل ہوں گے، جبکہ ڈاکیومنٹس اپ لوڈ کرنے اور این او سی فیس کی ادائیگی بھی ڈیجیٹل ہوگی۔وزیراعلیٰ نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسئلے کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کی بھی منظوری دی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ غریب عوام سے ناجائز پیسے لے کر پلاٹ نہ دینا ظلم ہے اور اس پورے مسئلے میں کچھ سرکاری ادارے بھی ذمہ دار ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کل 7905 ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں جن میں سے 2687 منظور شدہ اور 5118 غیر قانونی یا منظوری کے عمل میں ہیں۔ ایل ڈی اے کے تحت 707 سکیمیں ہیں جن میں سے 427 منظور شدہ اور 206 غیر قانونی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ غیر قانونی اسکیموں کو قواعد و ضوابط کے مطابق ایمینسٹی دی جائے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔