غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کیلئے پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی کا قیام

غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کیلئے پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی کا قیام

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کے لیے پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی (PSPA) قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔

 اس فیصلے کا مقصد پنجاب کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام اور شہری منصوبہ بندی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں کمرشل اور رہائشی علاقوں کے یکساں کلر اور ڈیزائن کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تاکہ ان علاقوں کی ظاہری ترتیب کو بہتر بنایا جا سکے اور ان کے درمیان تفریق کو کم کیا جا سکے۔ اجلاس میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کے گھروں کو ماحول دوست، واک ایبل اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی تجویز پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی۔لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے فیز ون کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے روزانہ کی بنیاد پر تفصیلی رپورٹ طلب کی تاکہ اس منصوبے پر تیز رفتار کام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ای ٹینڈرنگ کے ذریعے لاہور ڈویلپمنٹ پلان میں کروڑوں روپے کی بچت کی گئی ہے، جس سے حکومتی خزانے کی بچت ہو رہی ہے۔

اجلاس میں مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ سپیشل پلاننگ کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کریں گے اور اس کمیٹی میں واپڈا، سوئی گیس، واسا اور دیگر متعلقہ سروسز فراہم کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ اس کمیٹی کا مقصد اراضی کے غیر قانونی استعمال کی نگرانی کرنا اور اس حوالے سے فوری کارروائی کرنا ہے۔

ڈسٹرکٹ ڈیجیٹل وال کے ذریعے اراضی کے غلط استعمال کی نشاندہی کی جائے گی اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر درخواستوں کی فاسٹ ٹریک پر منظوری ممکن ہو گی، تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔

کمرشل، رہائشی اور زرعی زمینوں کی زوننگ بھی کی جائے گی اور یہ منصوبہ ہر چار سال بعد دوبارہ ریویو کیا جائے گا تاکہ کسی بھی تبدیلی یا نئے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت شامل کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہاؤسنگ سیکٹر کی زیر التواء درخواستوں کو فوری طور پر نمٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ ٹاؤن پلاننگ ایک مستحکم مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اربن ایریاز میں بے ہنگم اور غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بڑھنا تشویش کا باعث ہے اور اب ان پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔