قومی اسمبلی اجلاس: جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

قومی اسمبلی اجلاس: جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان نے جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔

 اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا۔پی ٹی آئی کے ارکان احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ اسد قیصر نے کہا کہ پنجاب کے متاثرہ اضلاع کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور نظام میں ظلم و جبر کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ رکن اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے چناب کے کنارے شدید بارشوں اور آنے والے سیلاب کی پیش گوئی کے بارے میں آگاہ کیا۔ثمینہ خالد اور شاہدہ اختر علی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ غیر قانونی تعمیرات اور شجرکاری کے منصوبوں پر عمل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے مصیبت زدہ افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نور عالم خان نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو دریاؤں پر تعمیر کی اجازت دینے پر شدید تنقید کی اور بیوروکریسی کو قصوروار قرار دیا۔

وفاقی وزیر حنیف عباسی نے کہا کہ حکومت نے بڑے پل، اسپتال اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ہے، اور بیوروکریسی پر الزام لگانا درست نہیں۔ وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے بتایا کہ وزیر اعظم سیلاب کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے فوری اقدامات اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔حکومت نے متاثرین کی مدد، فصلوں اور مکانات کے نقصانات کا سروے، اور مستقبل کے لیے جامع منصوبوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے تاکہ کسی اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔