کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے رئیس گوٹھ مراد گوٹھ کی پہاڑی سے کمسن بچے محمد یوسف کی برہنہ لاش ملنے کا واقعہ پورے علاقے میں شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بن گیا ہے۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت محمد یوسف کے طور پر ہوئی ہے، جو تین روز قبل اچانک لاپتہ ہو گیا تھا۔ مقتول کی لاش کو چھیپا اسپتال کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے والد ریاض شاہد بھی پہنچے۔والد نے بتایا کہ محمد یوسف منگل کی صبح ناشتہ کرنے کے بعد اسکول جانے کے لیے نکلا تھا، لیکن وہ اسکول نہیں پہنچا۔ والد کے مطابق جب اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچہ اسکول تک نہیں پہنچا تھا۔ بچے کی گمشدگی کی رپورٹ مدینہ کالونی پولیس تھانے میں درج کروائی گئی تھی۔تین دن کی تلاش کے بعد لاش پہاڑی علاقے سے برہنہ حالت میں برآمد ہوئی، جس سے شبہات پیدا ہو گئے کہ اسے اغوا کے بعد قتل کیا گیا ہے۔
والد نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔پولیس نے واقعے کی سنگین نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ اہلِ علاقہ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کو سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔ اس واقعے نے شہر میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں اور عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔