واشنگٹن: سابق امریکی صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما جو بائیڈن کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے بعد ان کا باقاعدہ علاج شروع کر دیا گیا ہے۔
بائیڈن آفس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ کینسر ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔82 سالہ جو بائیڈن نے اپنی بیماری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ:"مرض کی تشخیص بہتر ہوئی ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کینسر کو شکست دینے کے قابل ہو جائیں گے۔"چند روز قبل ان کے جسم میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، اور ابتدائی معائنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مرض نے پیچیدہ شکل اختیار کر لی ہے اور ہڈیوں تک سرایت کر چکا ہے۔جو بائیڈن نے 2020 سے 2024 تک امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی معمر عمری اور صحت کے خدشات کے باوجود وہ ملکی اور عالمی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔
ان کی بیماری کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر سے ان کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جو بائیڈن کو جدید طریقہ علاج کے ذریعے مکمل نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔یہ پیش رفت آئندہ صدارتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جہاں ان کی صحت پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔