اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کیلئے امریکا کی نئی تجویز مان لی: وائٹ ہائوس نیتن یاہو کا بھی اعلان

 حماس کی جانب سے تجویز پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ،امید ہے غزہ میں جنگ بندی ہو جائے گی تاکہ تمام مغویوں کو واپس لایا جا سکے،ترجمان کیرولین لیویٹ کی پریس بریفنگ
واشنگٹن ؍تل ابیب؍غزہ (آئی این پی )وائٹ ہائوس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کیلئے امریکا کی نئی تجویز پر دستخط کر دئیے البتہ مزید بات چیت جاری ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی غزہ جنگ بندی کیلئے نئی امریکی تجویز کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا ۔ترجمان وائٹ ہائو س کیرولین لیویٹ  نے پریس بریفنگ میں کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کے مشرق وسطیٰ میں خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کی نئی تجویز پر اسرائیل نے دستخط کر دئیے ہیں جبکہ حماس کی جانب سے تجویز پر کوئی جواب ابھی موصول نہیں ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہو جائے گی تاکہ تمام مغویوں کو واپس لایا جا سکے۔ عرب میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 10اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 60روزہ جنگ بندی شامل ہے، معاہدے میں دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔معاہدے کے تحت 5 یرغمالی جنگ بندی کے پہلے روز اور 5جنگ بندی کے 60ویں روز رہا ہوں گے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ جنگ بندی معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی ضمانت دیں گے۔مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی کے پہلے روز سے غیر مشروط انسانی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ایک سوال پر کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے خلاف تجارتی عدالت کا فیصلہ حد سے تجاوز کی ایک مثال ہے۔