فرخ ریاض بٹ
وطن عزیز پاکستان میں دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر سے بڑھنے لگے ہیں۔پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ لگنے والے سرحدی علاقوں سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام کا خوف میں مبتلا ہونا قدرتی امر ہے۔خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی(را)سمیت غیر ملکی اداروں کا ہاتھ ہے جوپاکستان میں عدم استحکام پیدا کر کے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔دہشت گرد وں کے پیچھے جو ہینڈلر اور ماسٹرز مائنڈ بیٹھے ہوئے ہیں، اصل دشمن وہی ہیں جن کے ایماء پر سب کچھ ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر نے اپنی خفیہ کمین گاہیں بنا رکھی ہیں۔دہشت گرد عناصر لوگوں کے اذہان میں خوف اور دہشت کا احساس سرایت کرنے کے لیے ہولناک، تباہ کن اور مہلک ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہیں جن میں بے رحمانہ قتل و غارت اندھا دھند فائرنگ، اغواء ، بینک لوٹنا، ریل گاڑیوں پر شب خون مارنا اور طیاروں کی ہائی جیکنگ شامل ہے،کیونکہ اس طرح دہشت گرد عوام اور خصوصاً حکومت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔دہشت گردی باقاعدہ ایک نیٹ ورک سے پھیلتی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر جو ہو رہا ہے یہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہے۔ ڈیجیٹل دہشت گردوں کا پتا نہیں ہوتا کہ وہ کس ملک سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ ملک میں بدامنی اور خوف پھیلا کر وطن عزیز کو معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے۔
ابھی حال ہی میں بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے گھناؤنے واقعہ سے جہاں دہشت گردوں اور ان کی پشت پناہی کرنیوالوں کے بارے میں بعض شواہد و اشارے ایک بار پھر دنیا کے سامنے آئے وہاں پاکستانی قوم کا یہ غیرمتزلزل عزم زیادہ مستحکم ہوا کہ وہ اپنی سرزمین کو غیرملکی ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کرکے دم لے گی جبکہ چین، روس، ایران، ترکیہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت عالمی برادری کا مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے کا بیانیہ، بالخصوص اس اعتبار سے، منطقی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے سامنے کھڑا وہ پہاڑ ہے جس نے عالمی برادری کو کم از کم دو عشروں سے جاری خطرات سے بچانے میں موثر کردار ادا کیا۔
جعفر ایکسپریس کے حوالے سے انڈین چینلز پر فیک ویڈیوز کی بھرمار تھی، نیوز ویب پورٹلز سنسنی پھیلانے میں پیش پیش تھے، وہ سوشل میڈیا پر مسلسل ہنگامہ برپا کیے ہوئے تھے۔ سیاسی رد عمل ہو یا معاشرتی، سوشل میڈیائی پاگل پن ہو، سیکیورٹی ڈومین ہو یا بین الاقوامی ایجنڈا، رد عمل بحیثیت مجموعی زہریلا تھا۔ دراصل دہشت گرد کے اہم ترین مقاصد میں قیمتی جانوں کا ضیاع یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا تو ہوتا ہی ہے، لیکن وہ اور اس کے ہینڈلر ایسی وارداتوں کے ذریعے درحقیقت کوریج اور ہائپ مانگ رہے ہوتے ہیں۔دہشت گردی کے کسی ایونٹ کی 24 گھنٹے کوریج اور براہ راست ہولناک اور خون آلود مناظر سے دہشت گرد کی اصل تسکین کا سامان پیدا ہوتا ہے اور نتیجے میں معاشرہ بھی غیریقینی کی سی صورتحال اور گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے یہ درست ہے کہ ہماری دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں کا اب عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جانے
لگا ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ کا آخری مرحلہ ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں پہلے سے زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز نے انتہائی سرعت، مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے جعفر ایکسپریس ٹرین کے یرغمالی مسافروں کو آزاد کروایا اور ساتھ ہی تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جو لائق تحسین ہے۔دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی قربانیاں خطے اور عالمی امن کی خاطر اس کی ثابت قدمی کی ایک روشن دلیل ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی کی مد میں تقریبا 31 ارب ڈالر اور قیمتی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت کی مضبوطی اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی دہشت گردی کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی و عسکری قوتوں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکساں انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔پاکستان کی ہر حکومت نے افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ چالیس برس گزرجانے کے باوجود لاکھوں افغان باشندوں کو اپنے ملک میں پناہ بھی دے رکھی ہے۔ پاکستان نے بارہا افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر پاکستان میں حملوں کے ثبوت پیش کیے ہیں۔القاعدہ کے ساتھ طویل وابستگی کے پیش نظر، ٹی ٹی پی علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے ایجنڈے کے ساتھ القاعدہ کے بازو کے طور پر ابھر سکتی ہے۔افغانستان کے چیلنجز بشمول دہشت گردی، انسانی حقوق اور وسیع پیمانے پر غربت بھی خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔ افغان حکام کی سیاسی فیصلہ سازی تیزی سے ابہام کا شکار ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک کے استحکام کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ پاکستان دہشت گردی کے موجودہ چیلنج سے نمٹنے میں افغانستان کی موجودہ عبوری (طالبان
) حکومت سے مخلصانہ تعاون کی توقع رکھتا ہے اور امید ہے کہ اس سلسلے میں کابل انتظامیہ نے بین الاقوامی برادری سے جو وعدے کیے ہیں، وہ ان پر پورا اترے گی۔ اس کے علاوہ جب تک ملک میں دہشت گردی کو نظریاتی توانائی فراہم کرنے والے موجود ہیں، ان کی نگہداشت کرنے والی نرسریاں موجود ہیں جو انسانوں میں بارود بھرتی ہیں، یہ جنگ جیتنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے ان فکری کمانڈروں، سہولت کاروں اور نرسریوں کا بندوبست بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔پاکستان کے خلاف جس طرح دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے سہولت کار متحد ہو چکے ہیں۔ یہ اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں کھل کر دہشت گرد قوتوں اور ان کے سہولت کاروں کو واضح طور پر یہ پیغام دیں کہ پاکستانی قوم اس معاملے میں پوری طرح متحد ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والی تمام قوتوں کو عبرت کا نشان بنادیا جائے گا۔