امجد علی
یقیناً، کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ پنجاب کا قیام حکومت پنجاب کا ایک اہم، سنجیدہ اور بروقت اقدام ہے، جس کے لیے ہم بحیثیت پنجابی شہری، وزیر اعلی پنجاب کے ازحد مشکور ہیں۔ یہ ادراہ
"Punjab Police (Amendment) Ordinance 2025" کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اس کا مقصد صوبے میں مسلسل بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا ہے، جن کی شدت اور پیچیدگی گزشتہ چند برسوں میں خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ گو کہ جرائم کی نوعیت مختلف سطحوں پر منقسم ہے، لیکن ان سب کی موجودگی نے ایک ایسی فضا قائم کر دی تھی جہاں ہر شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگا تھا۔
قتل، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، رہزنی اور دیگر سنگین وارداتیں روز کا معمول بنتی جا رہی تھیں۔ یہ وہ جرائم ہیں جو براہِ راست انسانی جان و مال کو نشانہ بناتے ہیں اور معاشرے میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضاء کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منظم جرائم کی ایک الگ دنیا متحرک تھی، جس میں لینڈ مافیا، بھتہ خوری، گینگ وارز، اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس شامل ہیں، جو قانون کی گرفت سے نکلنے کے ماہر ہو چکے تھے اور اکثر نظام انصاف کو کھلے عام چیلنج کرتے تھے۔
تیسری سطح پر سائبر کرائمز کی دنیا ہے، جو نہ صرف تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ اس کی نوعیت تکنیکی اور بین الاقوامی ہو چکی ہے۔ آن لائن فراڈ، سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میلنگ، نفرت انگیزی، اور ڈیجیٹل اسلحہ و منشیات کی ترسیل ایسے جرائم ہیں جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے تانے بانے کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کا وہ نیٹ ورک بھی سرگرم ہے، جو نئی نسل کو خاموشی سے بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 2022 میں 7 لاکھ 18 ہزار مقدمات درج ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 33 ہزار تک پہنچ گئی۔ یعنی صرف ایک سال میں جرائم کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان اعداد و شمار نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ معمول کے طریقوں سے ہٹ کر، ایک خصوصی اور طاقتور نظام ترتیب دے۔ انہی مقاصد کے لیے اس محکمے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ کرائم کنڑول محکمہ اے آئی جی یا ڈی آئی جی کی زیر نگرانی کام کرے گا اور جسے لامحدود اختیارات سونپے گئے ہیں۔
ان اختیارات میں، بغیر مقامی تھانے کی اجازت کے گرفتاری یا چھاپہ مار کارروائی، اپنے تفتیشی افسران کے ذریعے چالان جمع کرانا، عدالتوں سے براہ راست ریمانڈ حاصل کرنا، اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، جیسے AI-based surveillance، drone monitoring، facial recognition cameras، mobile data tracking
اور سوشل میڈیا تجزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب حکومت جرائم سے لڑنے کے لیے روایتی طور طریقوں سے آگے نکل چکی ہے اور ایک جدید اور کر بستہ ہو کر عملی ماڈل کی طرف گامزن ہے۔
یہ ادارہ روایتی ردعمل کی پولیسنگ سے ہٹ کر پیشگی روک تھام پر مبنی ماڈل کے تحت کام کرے گا۔ اس سے نہ صرف شہریوں کو اطمینان حاصل ہوگا کہ قانون ان کے تحفظ کے لیے فعال ہے، بلکہ کاروباری اور سماجی سرگرمیوں میں بھی استحکام آئے گا۔ سی سی ڈی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ باہم ربط رکھ کر کام کرے گا، تاکہ معلومات کا فوری تبادلہ، مشترکہ کارروائیاں، اور مربوط تعاقب ممکن بنایا جا سکے۔
تاہم، جہاں ایک جانب اس ادارے کے قیام اور فعالیت کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کو حاصل لامحدود اختیارات پر سنجیدہ خدشات کا اظہار بھی سامنے آ رہا ہے۔ عوامی مفاد میں یہ سوالات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیونکہ پولیس کو مکمل اختیار دیے بغیر جرائم پر قابو پانا مشکل ہے، مگر ان اختیارات کو بے لگام چھوڑ دینا خود قانون کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ CCD کے ہر افسر اور اہلکار پر کڑی نگرانی ناگزیر ہے۔ مسلسل سرویلنس، سخت احتساب، اور غیرجانبدارانہ آڈٹ ہی انہیں قانون کے دائرے میں رکھ سکتا ہے، جو کہ اس پورے نظام کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب پولیس، سی ٹی ڈی، کچہریاں، عدالتیں اور مکمل نظام عدل پہلے سے موجود تھیں تو وہ اپنے فرائض میں کیوں ناکام رہیں؟ ان کی ناکامی کی وجوہات کوئی راز نہیں، رشوت، اقربا پروری، سیاسی مداخلت، نااہلی، اور قانون کو ذاتی مفاد کے تابع بنانے کی روش "Law my foot" جیسے رویے اس زوال کے اصل محرک ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ایسے اداروں کی اصلاح کے بجائے ایک نیا محکمہ کھڑا کر دیا جاتا ہے، جس پر الگ بجٹ، الگ وسائل، اور الگ ڈھانچہ مختص کیا جائے گا۔ یہ روش دراصل مقننہ کی فکری اور فیصلہ سازی کی کمزوری اور عملی کاہلی کا مظہر ہے، جو نہ صرف گڈ گورننس کے خلاف ہے بلکہ قومی وسائل کا غیر دانشمندانہ استعمال بھی۔
یہ حقیقت تلخ سہی، مگر اسے تسلیم کرنا ہوگا کہ پہلے سے موجود اداروں کی ناکامی کو تسلیم کیے بغیر ان کی جگہ نئے محکمے کھڑے کر دینا قوم کے قیمتی وقت اور سرمایہ کا ضیاع ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ نہ صرف نئے ادارے قائم کرے، بلکہ پرانے اداروں کی اصلاح، احتساب اور کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ بھی لے، تاکہ نظام کی اصل روح بحال ہو سکے۔
پرانے محکموں کی ناکام کارکردگی پر انہیں ریشیپ اور ریسائزنگ یا ریڈیزائننگ کر کے دوبارہ فعال کرنے کی بجائے یکدم نئے محکمے کا قیام
فیصلہ سازوں پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
اگر پہلے ادارے کام نہیں کر رہے اور اسقدر ناکارہ ہو گئے ہیں کہ درست نہیں کیا جا سکتا تو ان خالی ڈھانچون کا قوم کیا کرے۔۔بقول اقبال :
جس کھیت سے دھکاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
سی سی ڈی کو شفاف، موثر اور قانون کے تابع رکھنے کے لیے جامع قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسی قانون سازی جو صرف کتابوں کی زینت نہ بنے بلکہ زندہ اور نافذ العمل ہو۔ افسران کو قانون کے سامنے جوابدہ بنانا ہوگا یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ قانون ان کا تابع نہیں بلکہ وہ قانون کے پابند ہیں۔ اصولا ان کی نیتوں کو درست ڈگر پر ڈالنا ہوگا۔ ورنہ تخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم کرپشن کو کسی بھی لیول پر روکنے میں بری طرح ناکام ٹھرے ہیں۔ کرپٹ ملکوں کی فہرست میں ہمارا نمبر آخری سے کچھ دور نہیں ہے! ایسے میں ان محکموں کے سربراہان کا احتساب بھی لازمی ہے کہ وہ اتنی خطیر رقمیں بٹور کر اپنے فرائض منصبی کو تن دہی سے سرانجام کیوں نہ دے سکے۔ انکو الکاسب حبیب اللہ کیوں یاد نہ رہا؟
موجودہ حالات میں جب کہ تھانوں میں نفری کی کمی نہیں، بجٹ بھی موجود ہے، پھر بھی جرائم کا گراف بلند ہے، تو اس کا مطلب واضح ہے: ہم نظام کی اصلاح کے بجائے چہرے بدلنے میں مصروف ہیں۔ جب تک فرض کو ذمہ داری نہ سمجھا جائے اور اس کی ادائیگی کو فرضِ عین نہ جانا جائے، ہم صرف دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ توبہ کر پلٹنے والوں میں شامل نہیں ہوتے۔
بحرحال سی سی ڈی کا قیام خوش آئند بھی ہے اور ہمارے لیے امید کی کرن بھی ہے امید کرتے ہیں کہ یہ سفید ہاتھی بننے کی بجائے قوم کی امیدوں پر پورے اترے گا اور شہریوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے اور ستائش سمیٹنے میں کامیاب ہو گا مگر یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہم مکمل تن دہی سے پورے اخلاص سے ملک اور فرض کو اولین ترجیح بنائیں گے۔۔۔ورنہ بمصداق اقبال کے شعر۔۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر۔۔۔۔
یہی ہو گا۔۔۔۔
اللہ سے سب کے لیے آسانیوں اور ھدایت کی دعاء ہے۔۔