پنجاب میں بڑھتے جرائم یا بڑھتی رجسٹریشن؟

 کاشف بٹ  
پنجاب میں رواں سال کے دوران جرائم سے متعلق جاری سرکاری اعداد و شمار ایک اہم اور پیچیدہ سوال سامنے لاتے ہیں: کیا صوبے میں حقیقی طور پر جرائم میں اضافہ ہوا ہے، یا ’’فری رجسٹریشن پالیسی‘‘ نے صرف رپورٹنگ کو زیادہ شفاف اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے؟
پولیس کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری ڈیٹا کے مطابق ساڑھے دس ماہ کے دوران صوبے بھر میں 9 لاکھ 95 ہزار کے قریب مقدمات درج ہوئے۔ مقدمات کا یہ حجم ظاہر کرتا ہے کہ تھانوں میں رجسٹریشن کا عمل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان اور فعال ہو چکا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے بڑے پیمانے پر ایف آئی آرز کے اندراج کے بعد پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور وسائل پر شدید دباؤ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں مقدمات کے حل اور ملزمان کی گرفتاری کے عمل میں واضح چیلنجز سامنے آئے ہیں۔سنگین نوعیت کے 83 ہزار سے زائد مقدمات کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کیے گئے، لیکن ان کیسز میں ریکوری اور تفتیش کی مجموعی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ ڈاکہ زنی، چوری اور دیگر سنگین جرائم میں 50 ارب روپے مالیت کے نقصانات رپورٹ ہوئے، مگر اس کے مقابلے میں ریکوری کی شرح نہایت کم رہی، جو پولیس کی کارکردگی اور نظامِ تفتیش کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح مورائے عدالت 128 ہلاکتوں کے واقعات بھی اس برس رپورٹ ہوئے، جن کی تحقیقات اب وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کی گئی ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف پولیس کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ نظامِ انصاف میں شفافیت کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کرتے ہیں۔
 اب بات کی جائے پولیس کے اندرونی نظم و ضبط کی تو صورتِ حال بھی توجہ طلب ہے۔ گزشتہ مہینوں میں پولیس افسران کے خلاف کرپشن، بدعنوانی اور ریکارڈ میں ردوبدل کے 68 مقدمات درج ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصلاحات کا عمل صرف جرم کے خاتمے تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ ادارے کے اندر احتساب بھی ضروری ہے۔ایک اور تشویش ناک پہلو وہ 1 لاکھ 9 ہزار مقدمات ہیں جو ناقص تفتیش کے باعث عدالتوں سے خارج ہوئے۔ یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ مقدمات کی تیاری، شواہد کے حصول، گواہوں کے بیانات اور چالان کی تکمیل جیسے بنیادی مراحل میں خامیاں موجود ہیں۔ نامعلوم اور نامکمل چالانوں کی بڑی تعداد بھی اسی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر 14 لاکھ 88 ہزار ملزمان کو مختلف مقدمات میں نامزد کیا گیا، مگر گرفتار ہونے والوں کی تعداد 6 لاکھ 61 ہزار رہی۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گرفتاریوں کے عمل میں مزید بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں جرم حقیقی معنوں میں بڑھا ہے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ محض رجسٹریشن کی تعداد کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ایف آئی آر کے آزادانہ اندراج نے نہ صرف جرائم کی اصل تصویر سامنے لائی ہے بلکہ پولیس اصلاحات، تفتیشی معیار، وسائلی کمی اور احتساب کے نظام کی کمزوریاں بھی اجاگر کر دی ہیں۔مستقبل میں مؤثر قانون نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رجسٹریشن کی یہ شفافیت تفتیش، ریکوری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ادارہ جاتی احتساب کے ساتھ ہم آہنگ ہو — تب ہی جرم پر کنٹرول ممکن ہوگا اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے گا۔