سٹیٹ بینک کی پالیسی اور بینکوں کی گرتی اقدار

محمد ندیم بھٹی
بینکاری کا شعبہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے۔ عوام اپنی جمع پونجی، محنت کی کمائی اور کاروباری سرمایے کو بینکوں کے حوالے کرتے ہیں تاکہ نہ صرف ان کا سرمایہ محفوظ رھے بلکہ وقت ضرورت پر بآسانی دستیاب بھی ھو۔ مگر پاکستان میں بینکاری کے نظام کے ساتھ عوام کے تعلقات اس قدر شفاف اور خوشگوار نہیں ہیں۔ یہاں کسٹمرز کو روزانہ کی بنیاد پر کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ ان مشکلات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ھے کہ جب کسٹمر کوئی شکایت درج کراتا ھے تو اس کا بروقت اور مؤثر حل نہیں نکلتا۔
عام شہری کے لئے بینک ایک ایسی جگہ ھونی چاہیے جہاں اسے مالی تحفظ اور سہولت دونوں میسر آئیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ھے۔ اے ٹی ایم مشینوں سے رقم کٹنے کے باوجود نہ ملنا ایک عام مسئلہ بن چکا ھے۔ مثال کے طور پر لاہور کے ایک سرکاری ملازم نے شکایت درج کروائی کہ اْس نے ایک بڑے نجی بینک کے اے ٹی ایم سے 25 ہزار روپے نکالنے کی کوشش کی، رقم اکاؤنٹ سے کٹ گئی لیکن مشین نے رقم نہیں دی۔ اس نے ہیلپ لائن پر کال کی تو جواب ملا کہ "آپ کی شکایت درج ہو گئی ھے، حل کے لئے سات دن انتظار کریں"۔ لیکن سات دن کے بعد بھی شکایت حل نہ ہوئی اور اسے کئی بار برانچ کے چکر لگانے پڑے۔ بالآخر پندرہ دن بعد جا کر اس کی رقم واپس ہوئی۔ یہ مثال بتاتی ھے کہ کس طرح کسٹمرز کو اذیت ناک انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔
اسی طرح فیصل آباد کی ایک گھریلو خاتون نے شکایت کی کہ اس کی موبائل بینکنگ ایپ پر بل کی ادائیگی کے دوران ڈبل کٹوتی ہو گئی۔ یعنی ایک ہی بل کے دو دفعہ پیسے کاٹے گئے۔ جب اس نے متعلقہ بینک سے رجوع کیا تو اسے کہا گیا کہ "یہ مسئلہ نیشنل بینک کے نظام میں ھے، آپ کو 21 دن انتظار کرنا پڑے گا"۔ تین ہفتوں تک اس کی رقم پھنسے رہنے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوا لیکن بینک کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
کسٹمرز کا کہنا ھے کہ بینکوں کی ہیلپ لائن پر گھنٹوں کال سننے کے باوجود انہیں تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ عملہ اکثر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر کسٹمر کو ایک ڈیسک سے دوسرے ڈیسک تک گھماتا رہتا ھے۔ کراچی میں ایک نوجوان تاجر نے بتایا کہ اس نے ایک بڑے بینک کی انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے 5 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن کی جو سسٹم ایرر کی وجہ سے رک گئی۔ جب اس نے بینک سے رابطہ کیا تو ایک افسر نے کہا کہ "یہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا مسئلہ ھے"، دوسرے نے کہا "یہ اسٹیٹ بینک کے کلئیرنگ سسٹم کا مسئلہ ھے"۔ تین ہفتوں تک وہ اپنی ہی رقم کے لئے دھکے کھاتا رہا۔
یہ رویہ عوام میں شدید بے چینی پیدا کر رہا ھے۔ بعض کسٹمرز نے یہاں تک شکایات کی ہیں کہ شکایات درج کرنے کے باوجود بینک عملہ الٹا ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ھے۔ لاہور میں ایک بزرگ شہری نے بتایا کہ جب اس نے برانچ مینیجر سے کہا کہ "میری شکایت کو تین ہفتے ھو گئے ہیں، آپ نے ابھی تک حل کیوں نہیں کیا" تو مینیجر نے جواب دیا "سر! ہمارے پاس بہت سارے کسٹمرز ہیں، آپ اکیلے نہیں ہیں"۔ اس جملے نے اس کسٹمر کو مزید دکھی اور مایوس کر دیا۔
ایک اور بڑی شکایت یہ ھے کہ بینکوں کی برانچز میں عملے کی تعداد کسٹمرز کی ضروریات کے مطابق نہیں ھوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ کسٹمرز کو طویل قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ھے۔ خاص طور پر بزرگ افراد اور خواتین کے لئے یہ عمل نہایت مشکل ہو جاتا ھے۔ ایک سرکاری پنشنر نے شکایت کی کہ "پنشن لینے کے لئے جب بھی بینک جاتا ہوں، تین سے چار گھنٹے لائن میں کھڑا رہنا پڑتا ھے۔ اگر کوئی سوال پوچھ لو تو عملہ ایسے دیکھتا ھے جیسے ہم نے ان پر احسان مانگ لیا  ھو"۔
بینکاری کے اس رویے کی سب سے بڑی وجہ یہ ھے کہ بینکوں نے اپنے لیے منافع کو اولین ترجیح بنا لیا ھے۔ کسٹمر سروس ان کے ایجنڈے میں کہیں پیچھے چلی گئی ھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے پاس بینکاری کا کوئی متبادل نظام موجود نہیں، اس لئے چاہے کسٹمر مطمئن  ھو یا نہ ھو، انہیں اپنا کاروبار چلانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ھے کہ چھوٹے کسٹمرز اکثر خود کو لاچار اور بے بس سمجھتے ہیں۔
ماہرین معیشت کا کہنا ھے کہ اگر بینکاری کے نظام میں کسٹمر سروس کو بہتر نہ بنایا گیا تو اس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا۔ عوام جب بینکوں پر اعتماد نہیں کریں گے تو وہ اپنی رقوم کو محفوظ رکھنے کے لئے غیر رسمی ذرائع کو استعمال کریں گے، جس سے نہ صرف بینکاری کا دائرہ محدود ھوگا بلکہ ملکی معیشت بھی کمزور ھوگی۔
یہاں پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ھے۔ اسٹیٹ بینک نے حالیہ برسوں میں "کنزیومر پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ" قائم کیا ھے تاکہ عوامی شکایات کو براہ راست مانیٹر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے ہدایت جاری کی ہیں کہ ہر بینک میں "شکایتی کاؤنٹر" اور "کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم" قائم کیا جائے، مگر افسوس کہ یہ ہدایات اکثر صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ھے کہ اسٹیٹ بینک اپنے کردار کو مزید مؤثر بنائے۔ چند پالیسی ریفارمز فوری طور پر لاگو کی جا سکتی ہیں:
ہر شکایت کے حل کے لئے زیادہ سے زیادہ سات دن کا ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔
اگر بینک مقررہ مدت میں شکایت حل نہ کرے تو جرمانہ عائد کیا جائے۔
ہر بینک کی برانچ میں شکایات کے اندراج اور ان کی فالو اپ رپورٹ براہ راست اسٹیٹ بینک کو بھیجی جائے۔
بینکوں کی ہیلپ لائنز کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے اسٹیٹ بینک سرپرائز آڈٹ کرے۔
بینک عملے کے رویے میں بہتری لانے کے لئے کسٹمر سروس ٹریننگ لازمی قرار دی جائے۔
چھوٹے کسٹمرز اور بزرگ شہریوں کے لئے "پریارٹی ونڈو" قائم کی جائے تاکہ وہ بغیر قطار کے اپنا کام کرا سکیں۔
مزید یہ کہ بینکاری کے نظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو کسٹمر فرینڈلی بنایا جائے۔ اگر کوئی ٹرانزیکشن رک جائے تو کسٹمر کو فوری طور پر ایک واضح ٹریکنگ نمبر اور حل کی متوقع تاریخ دی جائے۔ اس سے شفافیت بڑھے گی اور عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کا مسئلہ کہاں تک پہنچا ھے۔
اگر بینک چھوٹے کسٹمرز کو بھی اتنی ھی اہمیت دیں جتنی کارپوریٹ کلائنٹس کو دی جاتی ھے تو عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ھے۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔ یہ عمل نہ صرف کسٹمر اور بینک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرے گا بلکہ پورے بینکاری نظام کی شفافیت اور کارکردگی کو بھی بہتر بنائے گا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ بینکاری صرف منافع کمانے کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ان کے اعتماد کو قائم رکھنے کا بھی تقاضا کرتی 
ھے۔ اگر بینک اس اصول کو سمجھ لیں تو ان کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ھے۔ بصورت دیگر عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا اور بینکاری نظام کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔
لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ھے کہ بینک اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں، کسٹمرز کو بنیادی سہولتیں فراہم کریں، اور شکایات کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنائیں۔ اسٹیٹ بینک کو بھی اپنی نگرانی مزید سخت بنانی ھوگی تاکہ عوام اور بینکوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بحال ھو سکے۔ کیونکہ آخرکار ایک مضبوط معیشت کی بنیاد ایک شفاف، مؤثر اور عوام دوست بینکاری نظام ھی پر قائم ھوتی ھے۔