اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ میں اختر بلند رانا کو سول سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ پنشن کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں وزارتِ خزانہ نے پنشن کے بقایاجات کی ادائیگی کی منظوری کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کر لی۔جس پر عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ادائیگی کے وقت درخواست گزار سے بیانِ حلفی لیا جائے کہ اگر ڈویڑن بینچ فیصلہ کالعدم قرار دے تو رقم واپس کی جائے گی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ درخواست گزار کو بطور آڈیٹر جنرل سروس سے مس کنڈکٹ پر نکالا گیا، تاہم سابقہ سول سروس مکمل ہو چکی ہے اس کے بقایاجات ادا کیے جائیں۔جبکہ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کریں ورنہ مشکل ہوگی، حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ کیس لڑ رہی ہے۔عدالت نے یہ ریمارکس پیر کے روزدیے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ماہ میں بقایاجات جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی