قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش‘ پیٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی کی عدم ادائیگی پر 3 سال قید کی سزا تجویز،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کیلئے لیوی ادائیگی لائسنس بنانے کی تجویز

جنوری سے ستمبرتک فورسز کے آپریشن‘2410دہشت گرد ہلاک  3 لاکھ 26 ہزار 341 افغانیوں کے پاسپورٹ منسوخ
قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں، 5 سال میں سوا 3 لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کئے گئے  :وزارت داخلہ کا تحریری جواب
چھ بڑے خلیجی ممالک میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی برسر روزگار ہیں‘ تین سال کے دوران 12 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لئے سعودی عرب گئے:قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات 
اسلا م آباد(آئی این پی‘آن لائن )قومی اسمبلی  میں وزارت داخلہ نے  بتایا سکیورٹی  فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رواں سال میں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 5143 ہزار آپریشنز کیے، جس کے نتیجے میں 2410 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ  گزشتہ 5 سال کے دوران 3 لاکھ 26 ہزار 341 جعلی قومی شناختی کارڈ منسوخ کئے  گئے۔قومی اسمبلی  کے 30ویں سیشن کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارتِ داخلہ کی جانب سے   پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  افغان شہریوں نے دھوکادہی اور جعل سازی کے ذریعے پاکستانی قومی شناختی کارڈز حاصل کیے تھے جنہیں وزارت داخلہ نے منسوخ کیا۔وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں 2 لاکھ 55 ہزار 139، سال 2025 میں 62 ہزار 414، سال 2024 میں 8 ہزار 609، سال 2023 میں 117 اور سال 2022 میں 62 جعلی شناختی کارڈز منسوخ کئے گئے۔وزارت داخلہ کی جانب سے رواں سال کے پہلے ماہ کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جوب میں بتایا کہ یکم جنوری سے 29 ستمبرتک 5143 آپریشنز کئے گئے۔محسن نقوی نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں، 5143 آپریشنز میں 2410 دہشت گرد ہلاک،806 زخمی جبکہ 3518 گرفتار ہوئے تاہم ان لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔وزارت داخلہ کے مطابق 5 سال میں سوا 3 لاکھ افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ ہوئے، لاکھ 26ہزار 341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز منسوخ کئے۔ ان افغان شہریوں کے شناختی کارڈذ کی قانونی حیثیت مشکوک تھی‘دریں اثناء ، چھ بڑے خلیجی ممالک میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی برسر روزگار ہیں جبکہ گزشتہ تین سال کے دوران 12 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب گئے۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر برائے سمندر پار پاکستانی امور چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ گزشتہ تین سال میں متحدہ عرب امارات میں ایک لاکھ 69 ہزار، قطر میں ایک لاکھ 45 ہزار، بحرین میں 80 ہزار، کویت میں 10 ہزار اور عمان میں 91 ہزار سے زائد پاکستانی گئے۔وزیر برائے سمندر پار پاکستانی امور کے مطابق سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے روزگار کے اہم مراکز میں شامل ہے، جہاں گزشتہ تین سال میں جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ جبکہ وفافاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کی وصولی یقینی بنانے اور عدم ادائیگی پر سخت قانونی کارروائی کے لیے ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ مجوزہ قانون کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور دیگر لائسنس ہولڈرز کو لیوی کی ادائیگی کا پابند بنانے، تاخیر پر سرچارج عائد کرنے اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس معطل کرنے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات (پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی) آرڈیننس ترمیمی بل 2026 وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ بل کا بنیادی مقصد پیٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی کی ادائیگی کے طریقہ کار کو قانونی طور پر مؤثر بنانا اور متعلقہ کمپنیوں کے لیے ادائیگی کی پابندی یقینی بنانا ہے۔مجوزہ بل کے مطابق تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور لائسنس ہولڈرز کو پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی ادا کرنا ہوگی۔ اس ادائیگی کو متعلقہ لائسنس کے اجرا سے بھی منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت کمپنیاں لائسنس جاری ہونے کی تاریخ سے ہی دونوں اقسام کی لیوی ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ریفائنریز اپنی مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی پیشگی ادا کریں گی۔ اس کے علاوہ متعلقہ مصنوعات ریفائنری کے گیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے ان پر واجب الادا لیوی کی ادائیگی ضروری ہوگی۔ اس شق کا مقصد مصنوعات کی ترسیل سے قبل لیوی کی وصولی کو یقینی بنانا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی کمپنی مقررہ وقت پر لیوی ادا نہیں کرتی تو اسے تاخیر سے ادائیگی کا سرچارج بھی ادا کرنا ہوگا۔ بل میں سرچارج کے تعین کے لیے چھ ماہ کے کائبور  کی شرح کا ڈیڑھ گنا یا سالانہ 12 فیصد جرمانے کی تجویز شامل ہے