ہمیشہ دیر کر دیتا ہوںمیں, ہرکام کرنے میں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوںمیں, ہرکام کرنے میں

محمد تسلیم رضا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں... منیر نیازی کا یہ مصرعہ صرف ایک شاعر کا ذاتی اعتراف نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی قومی نفسیات کا ترجمان ہے۔ سوات میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ، جس میں دریا کی بے رحم لہروں نے درجنوں جانیں نگل لیں، ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہم بطور ریاست، بطور حکومت، اور بطور معاشرہ، ہر اْس قدم کو وقت پر اٹھانے سے قاصر ہیں، جو انسانی جانوں کو بچا سکتا ہے۔
ریسکیو آپریشن بعد میں شروع ہوا، انتباہی اعلانات بعد میں ہوئے، حفاظتی اقدامات بعد میں آئے، غیر قانونی ہوٹلوں کے خلاف کارروائیاں بعد میں کی گئیں، افسران کی معطلی بعد میں ہوئی، اور سچ پوچھیے تو شرمندگی بھی بعد میں محسوس کی گئی — اگر کی گئی ہو تو۔
یہ صرف سوات کی بات نہیں۔ یہی منظر ہم نے مری میں برفانی طوفان کے وقت بھی دیکھا، کراچی میں بارشوں کے دوران بھی، اور بلوچستان میں زلزلوں کے بعد بھی۔ لگتا ہے ہم نے "حادثہ ہونے دو، پھر حرکت میں آئو?" کا فارمولا اپنایا ہوا ہے۔
یہ بے حسی اور غفلت صرف حکومت یا ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ بدقسمتی سے ہم بطور قوم بھی ہر وہ کام وقت پر نہیں کرتے جو عقل، قانون اور اخلاق کا تقاضا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر ون وے کی خلاف ورزی کرنا، بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلانا، سیٹ بیلٹ کو مذاق سمجھنا، اور ٹرین کے گزرنے سے پہلے پھاٹک پار کرنا — یہ سب اس رویے کی عکاسی ہے کہ ہم حادثے کو قسمت، موت کو تقدیر، اور غلطی کو بہادری سمجھتے ہیں۔
کبھی کوئی آئل ٹینکر الٹ جائے تو ہم لائنوں میں لگ کر پٹرول چوری کرنے پہنچ جاتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ کب وہ ٹینکر آگ کا گولا بن جائے۔ دریا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے باوجود دریا کنارے پکنک منانے چلے جاتے ہیں۔ موسم کی سنگینی کی بار بار وارننگ کے باوجود پہاڑوں کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ الیکٹرک کھمبوں سے ٹنگے بینرز اتارتے وقت کرنٹ لگنے کے واقعات کو ہم بے احتیاطی نہیں، بدقسمتی سمجھتے ہیں۔
عمارتیں کمزور بنیادوں پر بنا کر ان میں رہائش اختیار کرنا، پرانے پلوں پر گاڑیوں کا بوجھ ڈالنا، اور بارش کے پانی میں کرنٹ کی موجودگی کے باوجود پیدل گزرنا — ہم خود ایسے کام کرتے ہیں جو حادثے کو دعوت دیتے ہیں، پھر اس پر ماتم بھی کرتے ہیں اور الزام بھی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف حکومت ہی قصوروار ہے؟ نہیں۔ یہ ناکامی ہم سب کی ہے۔ من حیث القوم، ہم ہر سطح پر ناکام ہیں — حکومتی سطح پر، ادارہ جاتی سطح پر، قومی سطح پر، اور انفرادی سطح پر۔
حکومت وقت پر نہ سڑکیں بناتی ہے، نہ پل؛ ادارے وقت پر نہ وارننگ دیتے ہیں، نہ مشینری پہنچاتے ہیں؛ میڈیا صرف حادثے کے بعد چیختا ہے؛ اور عوام حادثہ ہونے سے پہلے تک خبروں کو افواہ سمجھتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص لاپرواہی کے کسی نہ کسی عمل میں شامل ہوتا ہے، اور پھر یہی لاپرواہی اجتماعی سانحے کو جنم دیتی ہے۔
ترقی یافتہ قومیں حادثات سے پہلے متحرک ہوتی ہیں۔ ان کے ہاں حفاظتی اقدامات، وارننگ سسٹم، قانون پر عمل درآمد، اور انسانی جان کی قدر، سب کچھ "پہلے" ہوتا ہے۔ وہاں "بعد میں" صرف تعزیت رہ جاتی ہے، شرمندگی نہیں۔
لیکن یہاں؟ یہاں "ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں" فقط ایک نظم کا مصرع نہیں، بلکہ حکومتوں کی سوچ، اداروں کی رفتار، اور قوم کی بے حسی کا آئینہ ہے۔
ہمارے لوگ مر رہے ہیں، اور ہم صرف رپورٹیں لکھ رہے ہیں۔ جو دریا برسوں سے بہتا آ رہا ہے، اس کے کنارے ہوٹل بنانے پر روک نہ لگی۔ جو سیاح سالہا سال وہاں جاتے ہیں، ان کے لیے کوئی ایمرجنسی پلان نہ بنا۔ جو وارننگ سسٹم نصب ہونے تھے، وہ فائلوں میں دبے رہے۔ اور جب پانی سب کچھ بہا لے گیا، تب جا کے سب "چوکس" ہوئے۔
یہ کالم کسی حکومت کے خلاف فردِ جرم نہیں، بلکہ ایک سوال ہے: کیا ہم ہر بار مرنے کے بعد جاگیں گے؟ کیا ہر ماں کی لاش دیکھ کر ہمیں یاد ا?ئے گا کہ وارننگ جاری کرنی تھی؟ کیا ہر معصوم چہرے کو پانی میں بہتا دیکھ کر ہی ہم کوئی نیا نوٹس جاری کریں گے؟
اگر ہاں، تو پھر منیر نیازی کو ہم سب اپنی اجتماعی زبان کا شاعر مان لیں، کیونکہ "ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں" اب صرف ایک شخص کا المیہ نہیں رہا، یہ پوری قوم کی پہچان بن چکا ہے۔