غزہ کے قبرستان میں فلسطینیوں کی حریت زندہ

ثوبیہ شاہ

فلسطین کی جنگ کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا۔جنگ کے خاتمے کے لیے بار بار کی جانے والی بین الاقوامی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شمال میں فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں بیس افراد مارے گئے۔ خان یونس کے شمال میں فضائی حملوں سے ہر طرف آگ کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی آسیب زدہ شہر کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تمام گلیاں ویران ہیں۔ بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور بمباری سے ہونے والی تبائی جابجا دکھائی دیتی ہے۔ سڑکوں پر گڑھے پڑ گئے ہیں۔ جس کے باعث امداد کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ غزہ میں لوگ بہت بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ 
جبالیہ میں امدادی کارکن دن رات لوگوں کو خدمات پہنچا رہے ہیں۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ ان میں نکاسی آب کے شعبے کے مقامی سربراہ بھی شامل ہیں جو اپنی اہلیہ اور بیٹی کی ہلاکت کے ناقابل بیان دکھ کو جھیلتے ہوئے بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ 
اسرائیل کے فضائی حملوں میں غزہ کے45 ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اٹھارہ لاکھ سے زیادہ لوگ یا علاقے کی تقریباً 80 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ان میں بیشتر لوگوں نے اسرائیل کی فوج کے احکامات پر شمالی غزہ سے جنوب کی جانب نقل مکانی کی تھی۔
 اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنگ میں بے گھر ہونے والے لوگوں میں مہلک بیماریاں پھیلنے کے بارے میں دوبارہ متنبہ کیا ہے۔ 
'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ نئی معلومات کے مطابق غزہ میں ایک لاکھ 11 ہزار افراد سانس کے مسائل، 75 ہزار اسہال اور ہزاروں لوگ خارش، جوئیں پڑنے، جلد کی سوزش اور یرقان میں مبتلا ہیں۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا ہے کہ طبی خدمات کی عدم موجودگی میں بم باری سے کہیں زیادہ لوگوں کی بیماریوں سے ہلاکت کا خدشہ ہے۔
 اسرائیل انسانی بنیادوں پر غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈال کر قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہوئے قحط جیسی صورت حال کو بڑھا رہا ہے۔
ایک سال سے زیادہ کی جنگ کے بعد ابو رزاق القصاص اور ان کا خاندان غزہ کی پٹی میں خان یونس کے ایک قبرستان کے اندر بنی ہوئی عارضی پناہ گاہ میں رہائش پذیر ہیں ، اور بقا کے لیے خیرات میں ملنے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔القصاص نے قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔" دیکھیں کہ یہ بچوں کے لیے کتنا خوفناک ہے دیکھیں کہ ہم کیسے زندہ ہیں ، یہاں کھانا اور پانی نہیں ہے، 
غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار میں کمی آئی ہے اور خوراک ، پانی ، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔ اسرائیل نے اکثر امدادی اداروں پر غزہ کے اندر امدادی کی تقسیم میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ بھوک و افلاس کا بہت غلبہ ہے اور بہت سے لوگ خیموں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں ان کے سخت سردیوں سے بچنے کا امکان نہیں جس کا وہ عنقریب سامنا کرنے والے ہیں۔ القصاص خاندان پنیر، مصالحہ جات اور گندم کے آمیزے سے کھلی آگ پر پکی ہوئی روٹی پر گزارہ کرتا ہے۔ القصاص نے کہا۔" میرے بچوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں۔ وہ رات بھر روتے رہتے ہیں۔ وہ کھانا چاہتے ہیں۔ میں یہ کہا ں سے لاؤں ؟"
 ایک ماں اپنے لا پتہ بچے کو تلاش کرنے کہیں بھی جائے گی اور جب تک اس کے جسم میں جان ہے، وہ نہیں رکے گی۔ اس کا بچہ زندہ ہے یا نہیں ، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فلسطینی عورت کریمہ الداس خان یونس کے الفصر ہسپتال میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں میں تمام تر بدبو ، مٹی اور آس پاس کے شور کے باوجود اپنے بیٹے کو تلاش کرتی رہیں۔ کریمہ کا بیٹا خان یونس میں ہلاک ہو گیا تھا۔ لیکن اس کی لاش اس وقت سے لا پتہ تھی۔ آخر کار کریمہ کو اپنے بیٹے کی لاش مل گئی۔ کریمہ نے اپنے بیٹے کو خان یونس کے قبرستان میں دفنایا۔
جنگ کے شروع ہونے سے پہلے غزہ ایک کھلی جیل تھی۔ جسے اسرائیل نے دنیا کے سب سے بڑے اور کھلے قبرستان میں تبدیل کر دیا۔ اس قبرستان میں ہزاروں فلسطینیوں اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کو دفن کیا گیا ہے۔ اس جنگ میں فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کے باوجود جذبہ حریت اب تک زندہ بھی ہے اور توانا بھی۔ وہ بھوک، پیاس، زخموں اور شہادتوں کے باوجود آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔ غزہ کو اسرائیلی درندوں نے قبرستان بنا دیا، کھنڈر میں تبدیل کر دیا لیکن اس قبرستان میں بھی فلسطینی قوم زندہ ہے ، اس کی مزاحمت ، زندہ ہے۔
 حماس نے انتفاضہ الاقصیٰ کی 23 ویں سالگرہ پر کہا، کہ فلسطینی عوام کے سامنے ہمہ گیر استقامت واحد راستہ ہے۔ فلسطینی عوام متحد ہیں۔ استقامت کی حمایت کرتے ہیں،فلسطینی قوم دشمن کے منصوبوں اور فلسطینیوں کے مقدس مقامات کے خلاف صہیونیوں سے نبرد آزما رہے گی اور دشمن کے حملے اسے روک نہیں سکتے۔
 
ض