’’منشیات فروش تو مر گئے… مگر اصل سوال زندہ ہیں‘‘

کاشف بٹ
پنجاب کے مختلف شہروں میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ایک ہی رات میں 9 مبینہ پولیس مقابلے… ایک حیرت انگیز، خوفناک اور پرسکون بنانے والا منظر ایک ساتھ!
پولیس کہتی ہے ملزمان زیرِ حراست تھے، انہیں ریکوری کے لیے لے جایا جا رہا تھا، اور اچانک ان کے نامعلوم ساتھی نمودار ہوئے، فائرنگ کی، اور ’’اتفاقاً‘‘ اپنے ہی ساتھیوں کو مار کر بھاگ گئے۔کیا اتفاق ہے کہ ہر بار ’’زیرِ حراست‘‘ ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی سے مارے جاتے ہیں!سوال یہ ہے کہ:کیا یہ واقعتاً اتفاق ہے… یا ہمارا نظام انصاف اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ’’تاریخی شارٹ کٹ‘‘ اختیار کرتا ہے؟.اب آئیں دوسری طرف تو ان مقابلوں میں منشیات فروش مر گئے… مگر منشیات کی جڑیں کون کاٹے گا؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں منشیات کا کاروبار کسی گلی محلے میں بیٹھے چند افراد کا کھیل نہیں۔یہ ایک مکمل نیٹ ورک ہے،تھانوں کی منتھلی میں جڑیں رکھتا ہے،سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھتا ہے،اور بعض اعلیٰ افسران کی آنکھ جھپکنے پر چلتا ہے۔اگر یہ 9 لوگ واقعی اتنے ہی خطرناک تھے،تو وہ بار بار گرفتار ہو کر کیسے چھوٹ جاتے تھے؟کیا یہ سب پولیس سے چھپ کر کاروبار کرتے تھے؟یا پھر…پولیس کے ساتھ ’’سیٹنگ‘‘ کے بغیر ان کا کاروبار ممکن ہی نہ تھا؟یہ سوال حکومت، عوام، عدالتوں اور خود پولیس کے سامنے کھڑا ہے جیسے ایک آئینہ —جس میں چہرے بدلتے ہیں مگر حقیقت ایک ہی رہتی ہے۔اصل مجرم کون؟ وہ جو منشیات بیچتے ہیں، یا وہ جو بیچنے دیتے ہیں؟نو منشیات فروش مارے گئے — ٹھیک۔
لیکن ان کے پیچھے جو لوگ:ان سے منتھلی لیتے تھے،ان کو تحفظ دیتے تھے،چھاپہ پڑنے کی اطلاعات پہنچاتے تھے،اور انہیں دوبارہ مارکیٹ میں واپس بھیجتے تھے…کیا ان کا کوئی نام، کوئی ذکر، کوئی فہرست جاری ہوگی؟یا پھر ہمیشہ کی طرح’’نیچے سے نچلا طبقہ مارو، اوپر والے گود میں بیٹھے رہنے دو‘‘والا فیصلہ برقرار رہے گا؟اور پھر یہی پولیس والے کل کسی نئی کارروائی میں ’’ہیرو‘‘ بنا کر پیش کر دیے جائیں گے۔
کیا یہ مقابلے مسئلہ حل کریں گے یا مزید سوال پیدا کریں گے؟اگر یہ مقابلے واقعی حقیقی اور ناگزیر تھے —تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ یہ آپریشن مسئلے کا علاج نہیں بلکہ علامت کا انتقام ہے۔منشیات کا کاروبار چند افراد کی ہلاکت سے ختم نہیں ہو سکتا۔یہ ایسا ہی ہے جیسے درخت کی شاخیں کاٹ دو مگر جڑیں زمین میں سلامت رہیں۔اگلے ہفتے نئی شاخیں اْگ آئیں گی۔ریاست کب وہ قدم اٹھائے گی جو اصل علاج ہے؟اصل قدم یہ ہیں:تھانوں کی سطح پر احتساب ہر اس اہلکار کی انکوائری جو منشیات کے گینگ سے منتھلی لیتا ہیپولیس کے اندر موجود ‘‘سہولت کاروں’’ کا صفایااگر نیچے کے لوگ مرتے رہیں مگر اوپر بیٹھے لوگ بچتے رہیں تو یہ جنگ کبھی نہیں جیتی جا سکتی۔ اگر ریاست صرف مقابلے کرتی رہی مگر نظام نہ بدلا تویہی کہانی چند ماہ میں دوبارہ دہرائی جائے گی —صرف کردار بدل جائیں گے، اسکرپٹ وہی رہے گا۔یہ کارروائیاں وقتی طور پر سکون ضرور دیتی ہیں،لیکن یہ کسی قوم کی جیت نہیں —یہ اس نظام کی شکست ہے جو عدالتوں میں سزا دلوانے کی طاقت کھو چکا ہے۔نو منشیات فروش مر گئے…
لیکن سوال زندہ ہیں —
اور جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے،
یہ جنگ جیتنا ناممکن ہے۔
کیا ریاست واقعی تبدیلی چاہتی ہے؟یا ہمیشہ کی طرح صرف دوچار لاشیں گرانا ہی ’’کارکردگی‘‘ سمجھا جائے گا؟