ایک برطانوی شہری کو ایران کے لیے برطانیہ کے فوجی اڈے کی مبینہ جاسوسی اور حساس معلومات کے تبادلے کے الزام میں قبرص میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ رشاد سلطانوف پر الزام ہے کہ انہوں نے قبرص میں قائم برطانوی شاہی فضائیہ (RAF) کے اکروتری ایئربیس سے متعلق معلومات جمع کیں اور انہیں مبینہ طور پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک افراد تک پہنچانے کی کوشش کی۔رپورٹس کے مطابق رشاد سلطانوف، جن کے پاس آذربائیجان کی شہریت بھی ہے، کو قبرص کی پولیس نے 17 جولائی کو گرفتار کیا تھا اور وہ تاحال حراست میں ہیں۔برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) کے مطابق ملزم کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب 2023 میں نافذ ہونے والے نئے قومی سلامتی قانون کے تحت کسی مبینہ جرم کی بیرونِ ملک برطانوی علاقے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اکروتری ایئربیس قبرص میں برطانیہ کے اہم فوجی مراکز میں شامل ہے، جہاں سے برطانوی فوج خطے میں مختلف آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس اڈے سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے رائل ایئر فورس کی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔برطانوی حکام کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق معلومات کا تحفظ انتہائی اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب ملزم پر عائد الزامات کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ عدالت میں مقدمے کی پیش رفت کے بعد ہی الزامات کی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔